
خلیج اردو
منیلا: فلپائنی حکومت نے اسرائیل کے لیے وطن واپس جانے والے اوورسیز فلپائنی ورکرز کی تعیناتی پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد وہ فلپائنی کارکن جو تعطیلات کے لیے وطن واپس آئے تھے، اب دوبارہ اسرائیل جا کر اپنا کام دوبارہ شروع کر سکیں گے۔
تاہم یہ نرمی صرف واپس جانے والے ورکرز کے لیے ہے۔ نئے بھرتی شدہ کارکنوں، سیاحوں، زائرین اور دیگر غیر ضروری مسافروں کو تاحال اسرائیل جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فلپائنی وزارتِ خارجہ نے پیر کو اسرائیل میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد الرٹ لیول 3 کو کم کر کے لیول 2 کر دیا ہے۔ لیول 2 میں اوورسیز فلپائنیوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز، عوامی مقامات سے اجتناب، انخلا کے لیے تیاری، اور قریبی فلپائنی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
الرٹ لیول 3 اُس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب کسی محدود علاقے میں پرتشدد واقعات یا بیرونی حملے ہوتے ہیں، اور اس میں رضاکارانہ وطن واپسی کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ لیول 4 مکمل انخلا اور جبری وطن واپسی کا مرحلہ ہوتا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی صورتحال میں مثبت پیش رفت کے بعد الرٹ لیول میں کمی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ فلپائنی حکومت نے اس سے قبل ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے اسے "کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی سمت ایک قدم” قرار دیا تھا۔
فلپائنی حکومت کے مطابق اسرائیل میں تقریباً 30,000 فلپائنی ورکرز کام کر رہے ہیں، جن میں اکثریت نگہداشت فراہم کرنے والوں اور ہوٹل ورکرز پر مشتمل ہے۔







