
خلیج اردو
نئی دہلی: 14 جون کو دہلی سے ویانا جانے والی ائیر انڈیا کی پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد 900 فٹ نیچے آ گئی، جس کے بعد طیارے میں اسٹال وارننگ اور گراؤنڈ پروکسیمیٹی الارم بجنے لگے، جن میں مسلسل ’ڈونٹ سنک‘ (Don’t sink) کی وارننگز بھی شامل تھیں۔ یہ رپورٹ ٹائمز آف انڈیا نے شائع کی ہے۔
بوئنگ 777 پر مشتمل فلائٹ AI-187 نے دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 2:56 بجے پرواز کی اور نو گھنٹے آٹھ منٹ کے سفر کے بعد ویانا میں بحفاظت لینڈنگ کی، تاہم پرواز کے ابتدائی لمحات میں طیارہ غیرمعمولی حد تک نیچے آ گیا۔ ائیر انڈیا کے مطابق پائلٹس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے طیارے کو مستحکم کیا اور خراب موسم کے باوجود سفر کو کامیابی سے مکمل کیا۔
ائیر انڈیا کے ترجمان کے مطابق، "پائلٹ کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد یہ معاملہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کو ضوابط کے تحت رپورٹ کیا گیا۔ طیارے کے بلیک باکس اور ریکارڈرز سے ڈیٹا ملنے پر مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ دونوں پائلٹس کو تحقیقات مکمل ہونے تک ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔”
یہ واقعہ ایک اور افسوسناک حادثے کے محض دو روز بعد پیش آیا، جب 12 جون کو احمد آباد سے لندن جانے والی ائیر انڈیا کی بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر پرواز ٹیک آف کے چند ہی منٹ بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی، جس میں 270 کے قریب مسافر اور عملہ جاں بحق ہو گئے تھے۔
ان مسلسل واقعات کے پیش نظر DGCA نے ائیر انڈیا کے سیفٹی سسٹمز کا مکمل جائزہ لینے کے لیے جامع انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک حالیہ آڈٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ائیر لائن میں مینٹیننس کے سنگین مسائل اور خرابیوں کی نشاندہی کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی ائیر انڈیا کی کئی پروازیں تکنیکی خرابیوں کا شکار ہوئیں، جس سے ائیر لائن کے بیڑے کی مجموعی حالت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
حادثے کی تحقیقات میں موسم، طیارے کی مکینیکل صورتحال، اور ممکنہ انسانی غلطی جیسے عوامل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کے بعد بھارت میں ہوا بازی کے حفاظتی ضوابط میں سختی متوقع ہے۔







