متحدہ عرب امارات

ٹکٹوں کی زیادہ قیمتیں مسافر پریشان ہوائی جہازوں کو مالی خسارہ

بین القوامی ممالک دوبئی طرز کی حکمت عملی اپنائے تو ائیر لائنز کا مالی خسارہ ختم ہوجائگا

(خلیج اردو )ہوائی جہازوں میں سفر کرنے کے لئے ٹکٹ کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان اس سال کے آخر تک ختم ہوجائے گا کیونکہ اب آہستہ آہستہ بین القوامی سرحدیں کھل رہی ہے اور مسافروں کو آمدورفت کی اجازت مل رہی ہے ۔ کویڈ 19 وبائی صورتحال کے سبب جہازوں میں کم مسافروں کو سفر کی اجازت ہے جس کے سبب ٹکٹوں میں اضافہ کیا گیا ہے مگر تاحال یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ٹکٹوں کی کم قیمت کب متعین ہوگی ۔

ٹکٹوں کی زیادہ قیمت کی جہازوں میں کم مسافر بھی ایک وجہ ہے مگر ائیر پورٹ پر دوسری ضروریات پورا کرنے کے لئے بھی ٹکٹوں سے رقم وصول کی جاتی ہے جسکی وجہ سے قیمتیں انتہائی بڑھ گئی ہے ۔

مہر شوالانی جو گلف ٹورزم میں ڈاریکٹر سیلز ہے کہتے ہے کہ حال ہی میں دوبئی کا فیصلہ تاریکی میں روشنی کی کرن ثابت ہوئی ہے کیونکہ دوبئی کو بین الاقوامی سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا یے ۔

اگر باقی ممالک بھی اختیاطی تدابیر کے ساتھ بین القوامی آمدورفت کی اجازت دیتی ہے تو امکان ہے کہ ہوائی جہازوں کو درپیش مسائل حل ہوجائینگے ۔ یہ بھی ایک اندیشہ ظاہر کیا جارہا یے کہ اگر لوگ بین القوامی آمدورفت کم کرتے ہے تو ہوائی جہازوں کے مسائل میں مزید اضافے کا خطرہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کیونکہ لوگ زیادہ تر اپنے ممالک میں سفر کو ترجیح دیے رہے ہیں جس سے بین القوامی آمدورفت مزید کم ہوجائے گی ۔

نیراج گوشوامی جو کلئیر ٹریپ میں ڈاریکٹر ہیں کہتے ہیں کہ کویڈ 19 کے سبب سماجی فاصلوں کو یقینی بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے جہاز میں تعداد سے کم مسافروں کو سوار کیا جاتا ہے جس سے مسافروں پر اضافی ٹکٹوں کا بوجھ پڑھتا ہے مگر انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب حالات ٹھیک ہوجائینگے جو امکان ہے کہ آئندہ تین یا چار مہینوں تک ہوجائیں تو قیمتیں کم ہو جائینگی مگر پھر بھی کویڈ 19 سے پہلے جو قیمت تھی اس سے زیادہ ہونگی ۔

شیک شبلی جو آئی ٹی ایل ورلڈ کے مارکیٹنگ سربراہ ہے کہتے ہے کہ ٹکٹ کا واپس اپنی قیمت پر آنے میں وقت لگے گا ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ متعدد ائیر لائنز کو خسارے کا سامنا ہے اور کچھ اپنے ورکرز کو نکال رہے ہیں جبکہ دیگر دیوالیہ ہونے کے دھانے پر پہنچ چکے ہے ۔ جب کبھی بھی ہوائی جہازوں کو مالی خسارے کا سامنا ہوتا ہے تو ٹکٹوں کی زیادہ قیمت وصول کی جاتی ہے کیونکہ ڈیمانڈ کم ہوتی ہے اور پروازوں کا خرچہ بڑھ جاتا ہے ۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button