
خلیج اردو
راس الخیمہ کا نیا کمرشل اور رہائشی منصوبہ "آر اے کے سنٹرل” 2027 تک اپنی پہلی کھیپ میں کاروباروں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔ اس منصوبے کو شمالی امارات کا سب سے بڑا بزنس ڈسٹرکٹ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی انفراسٹرکچر ورک کی تکمیل کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا۔
مارجان کے سی ای او عبداللہ العبدولی کے مطابق "آر اے کے سنٹرل ہیڈکوارٹرز” یعنی مرکزی آفس کمپلیکس آئندہ 24 ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ پائلنگ مکمل ہو چکی ہے اور تعمیراتی معاہدے دیے جا چکے ہیں۔ یہ آفس کمپلیکس منصوبے کا مرکز ہوگا اور بین الاقوامی کارپوریٹس کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباروں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرے گا۔ اس کے بعد رہائشی اور ہوٹلنگ منصوبے سامنے آئیں گے، تاکہ ایک مکمل "ورک-لِو-پلے” کمیونٹی قائم کی جا سکے۔
یہ منصوبہ 3.1 ملین مربع میٹر پر محیط ہے اور اس میں 8.3 ملین مربع فٹ کا مجموعی رقبہ شامل ہے۔ یہاں 6 ہزار سے زائد پروفیشنلز کے لیے دفاتر، پانچ گریڈ اے آفس بلڈنگز، 4 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس اور ایک ہزار سے زائد ہوٹل کمروں کی سہولت موجود ہوگی۔ دفاتر کا حصہ منصوبے کا 15 فیصد ہے جبکہ رہائشی اور مہمان نوازی کے منصوبے 85 فیصد پر مشتمل ہیں۔
عبداللہ العبدولی کے مطابق راس الخیمہ میں معیاری آفس اسپیس کی شدید طلب ہے اور یہ منصوبہ مقامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ بین الاقوامی برانڈز کو بھی اپنی طرف کھینچے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم مارکیٹ کا شیئر نہیں لے رہے، ہم نئی ڈیمانڈ پیدا کر رہے ہیں۔”
سرمایہ کاروں کے لیے یہ موقع پرکشش قرار دیا جا رہا ہے۔ العبدولی کے مطابق جو لوگ ابھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ آئندہ برسوں میں 15 سے 20 فیصد تک منافع حاصل کر سکتے ہیں، جیسا کہ پہلے المرجان آئی لینڈ کے منصوبوں میں دیکھا گیا تھا۔ صرف سات سالوں میں راس الخیمہ کو مزید 45 ہزار رہائشی یونٹس درکار ہوں گے، جن میں سے 4 ہزار سے زائد یونٹس آر اے کے سنٹرل فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ شروع ہی سے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر چکا ہے اور صرف 15 ماہ میں اس کی تمام پلاٹس فروخت ہو چکے ہیں۔ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے اس میں دلچسپی دکھائی ہے۔
آر اے کے سنٹرل کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ 3.9 بلین ڈالر کے "وِن” انٹیگریٹڈ ریزورٹ کے قریب ہے، جو 2027 میں کھلے گا اور 7,500 نئی ملازمتیں پیدا کرے گا۔ اس سے کمرشل اور رہائشی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ ہوگا۔
منصوبے کی لوکیشن بھی اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ یہ شیخ محمد بن سالم القاسمی اسٹریٹ، ای-11 ہائی وے، المرجان آئی لینڈ، راک فری زون اور الحمرا مال کے قریب واقع ہے۔
عبداللہ العبدولی کے مطابق یہ صرف رئیل اسٹیٹ کا منصوبہ نہیں بلکہ راس الخیمہ کو عالمی سطح پر بزنس اور سیاحت کا مرکز بنانے کی بڑی ویژن کا حصہ ہے۔







