متحدہ عرب امارات

یو اے ای: رمضان سے پہلے جسم کو روزہ کے لیے تیار کرنے کے آسان طریقے

خلیج اردو
دبئی: رمضان کے آغاز کے پہلے چند دن اکثر سب کے لیے سب سے مشکل ہوتے ہیں، کیونکہ سر درد، تھکن، پانی کی کمی اور کم توانائی جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔ صحت کے ماہرین کے مطابق یہ مسائل چند ہفتے قبل جسم کو تیار کر کے کم کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کی تجاویز:

  1. ہفتوں قبل تیاری شروع کریں
    ڈاکٹر بھانو پرکاش کا کہنا ہے کہ روزہ سے چھ سے آٹھ ہفتے پہلے تیاری شروع کرنا چاہیے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو مزمن بیماریوں میں مبتلا ہوں۔ صحت مند افراد کے لیے، ڈاکٹر حسیینہ این ایم کے مطابق، دو سے چار ہفتے کافی ہیں۔

  2. خوراک میں اچانک تبدیلی نہ کریں
    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اچانک کھانے پینے کے انداز بدلنا روزہ کو مشکل بنا دیتا ہے۔ بھانو پرکاش کے مطابق، “غذائی تبدیلی آہستہ آہستہ کرنی چاہیے، اور اچانک محدودیت نہیں لانی چاہیے۔”

  3. توانائی دینے والی خوراک منتخب کریں
    روزہ سے پہلے کھانے کی اہمیت زیادہ ہے۔ سبزہ جات، پھل، دالیں، اور مکمل اناج جیسے براؤن رائس، جَو توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ پروٹین بھی شامل کریں تاکہ پٹھوں کی کمی نہ ہو۔

  4. چینی اور بھاری کھانے کم کریں
    بھاری یا زیادہ میٹھی خوراک روزہ کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ ڈاکٹر بھانو پرکاش کے مطابق، “ری فائینڈ چینی اور بھاری چکنائی والی خوراک محدود کریں تاکہ میٹابولزم مستحکم رہے۔”

  5. کیفین کی مقدار کم کریں
    اکثر لوگ کیفیین اچانک بند کر دیتے ہیں، جو سر درد اور تھکن کا باعث بنتا ہے۔ ایک سے دو ہفتے قبل چائے، کافی اور ری فائینڈ شوگر کم کریں تاکہ پہلے روزہ کے دن مشکلات نہ ہوں۔

  6. کھانے کے اوقات ایڈجسٹ کریں
    ڈاکٹر بھانو پرکاش کے مطابق، آہستہ آہستہ کھانے کے اوقات تبدیل کرنا جسم کی گھڑی کو رمضان کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتا ہے۔

  7. صحیح طریقے سے پانی پئیں
    چائے، کافی اور سافٹ ڈرنکس کو پانی کی جگہ نہ سمجھیں۔ ڈاکٹر حسیینہ کے مطابق، ایک ہی وقت میں زیادہ پانی پینا فائدہ مند نہیں، بلکہ آٹھ سے بارہ گلاس پانی دن میں تقسیم کر کے پئیں۔

  8. طبی مشورہ لیں
    روزہ کبھی بھی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر بھانو پرکاش نے کہا، “مزمن بیماری والے افراد روزہ سے پہلے طبی مشورہ ضرور لیں۔ مناسب تیاری کے ساتھ زیادہ تر لوگ محفوظ طریقے سے روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن صحت سب سے اہم ہے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button