متحدہ عرب امارات

راس الخیمہ: متحدہ عرب امارات میں ویلنیس، عیش و آرام اور عالمی سرمایہ کاری کا مرکز

**خلیج اردو**

راستے شمالی امارات میں واقع راس الخیمہ ایک خاموش مگر نمایاں تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ کبھی ایک پرسکون اور پہاڑی ہفتہ وار تفریحی مقام کے طور پر پہچانا جانے والا یہ امارات اب خاندانوں، ویلنس کے شائقین، اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سب سے زیادہ کشش کا مرکز بن رہا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی مانگ میں اضافہ، عالمی ہاسپیٹیلٹی برانڈز کی آمد، اور فطرت، ڈیزائن اور ثقافت پر مبنی طرزِ زندگی کی تشکیل اس تبدیلی کی بنیاد ہیں۔ راس الخیمہ اب صرف ویک اینڈ کے لیے نہیں بلکہ مستقل رہائش کے لیے بھی ایک اہم انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر اس تبدیلی کا سب سے بڑا محرک ہے۔ 2024 میں کل پراپرٹی ٹرانزیکشنز 15.08 ارب درہم تک پہنچ گئیں جو کہ 2023 کے مقابلے میں 118 فیصد اضافہ ہے۔ متوقع آبادی میں اضافے اور 2030 تک 0.4 ملین سے 0.65 ملین ہونے کی پیش گوئی اس شعبے میں تقریباً 45,000 نئے گھروں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ایماار، الدار، ایلنگٹن، میرا، بی این ڈبلیو، اور میجر ڈویلپمنٹس جیسے بلیو چپ ڈویلپرز اب مقامی ناموں جیسے مرجان اور الہمرا کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں، جو سرمایہ کاری کے اعتماد کی علامت ہیں۔

ایلی نامان، سی ای او اور شریک بانی ایلنگٹن پراپرٹیز نے کہا: "سرمایہ کار کہانی اور اعداد و شمار دونوں پر ردعمل دیتے ہیں، اور راس الخیمہ دونوں محاذوں پر کامیاب ہے۔ فری ہولڈ ملکیت، کاروبار میں آسانی اور طویل مدتی رہائش کے مواقع عالمی سرمایہ کاروں کے دروازے کھول رہے ہیں۔”

اسی دوران امارات جدید انفراسٹرکچر جیسے ہائی ویز، ایئر ٹیکسی اقدامات اور عالمی معیار کے واٹر فرنٹ ہبز کی تعمیر میں تیزی لا رہا ہے۔ وِن المرجان آئلینڈ ریزورٹ، جو 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا پہلا کمرشل گیمنگ لائسنس حاصل کر چکا ہے اور 2027 کے لگ بھگ کھلنے کا منصوبہ رکھتا ہے، راس الخیمہ کی عالمی شہرت میں سب سے بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ریزورٹ میں 1,500 سے زائد کمرے، 22 سے زائد ریستوران، مرینا، ایونٹس ایرینا، لگژری ریٹیل اور ویلنس تجربات شامل ہوں گے۔

ٹیمور مامایکھانوف، شریک بانی اور سی ای او میرا ڈویلپمنٹس نے کہا: "وِن المرجان کے اعلان کے بعد امارات میں طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ پروجیکٹ راس الخیمہ کو بین الاقوامی سیاحت اور ہائی اینڈ تفریح کا نیا مرکز بنا گیا ہے۔”

راس الخیمہ میں عالمی ہوٹل برانڈز جیسے جے ڈبلیو میریٹ، نووبو، میسونی، اور دی ایڈریس اب پروجیکٹس میں داخل ہو رہے ہیں، اور آئندہ برسوں میں 5,000 نئے ہوٹل رومز کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

نئے خریداروں کی ایک نئی کلاس نے بھی مارکیٹ کو تبدیل کر دیا ہے۔ ویلنس خریدار قدرتی روشنی، پرسکون مناظر، کھلے فضائی علاقے اور ذہنی سکون کے لیے سہولیات چاہتے ہیں، جبکہ خاندان ایسے کمیونٹیز چاہتے ہیں جہاں بچے فطرت کے قریب پروان چڑھیں اور والدین آرام کے ساتھ سہولت بھی حاصل کریں۔

راست الخیمہ کی فطرت صرف دیکھی نہیں جاتی بلکہ نئی تعمیرات کے ڈیزائن میں ضم کی جا رہی ہے۔ ساحلی علاقے، پہاڑی سلسلے اور قدرتی روشنی نئے منصوبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔

ویلنس اور ایڈونچر کا امتزاج بھی راس الخیمہ کی خاص پہچان ہے۔ یونیسکو کے تاریخی مقامات، جبل جیس، بیئر گرلز ایکسپلوررز کیمپ، اور آنے والے سیج ماؤنٹین ای کو ریٹریٹ، طویل ساحلی پٹیوں کے ساتھ سیاحوں اور رہائشیوں کے لیے منفرد تجربات فراہم کر رہے ہیں۔

Vision 2030 فریم ورک کے تحت گرین بلڈنگ پریکٹسز، مکسڈ یوز ڈویلپمنٹ اور جامع شہری منصوبہ بندی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ راس الخیمہ سینٹرل ایک ایسا مرکز بنے گا جو رہائشی، تجارتی اور تفریحی شعبوں کو یکجا کرے گا۔

طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے حالات سازگار ہیں: ابتدائی مرحلے کی قیمتیں، عالمی ہوٹل اور رہائشی برانڈز کی آمد، انفراسٹرکچر میں تیزی، اور پائیداری پر مبنی منصوبہ بندی۔

مامایکھانوف کا کہنا ہے: "نئی نسل کے خریدار صرف جائیداد خرید نہیں رہے بلکہ ایک مکمل زندگی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو طویل مدتی کے لیے تیار کی گئی ہے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button