متحدہ عرب امارات

دبئی میں اب ٹیکسی ڈرائیورز کے رویے کی جانچ کے لیے مصنوعی زہانت ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا

یہ نیا نظام اس بات کی نگرانی کرے گا کہ آیا ٹیکسی ڈرائیور اور مسافر کرونا وبا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہیں کہ نہیں۔

خلیج اردو ویب ڈیسک 14 جولائی 2020

دبئی میں اب ٹیکسی ڈرائیورز کے رویے کی جانچ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔

یہ نیا نظام اس بات کی نگرانی کرے گا کہ آیا ٹیکسی ڈرائیور اور مسافر کرونا وبا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر عمل پیرا ہیں کہ نہیں۔

دبئی میں روڈس اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے ٹیکسی ڈرائیوروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا نفاذ شروع کیا ہے۔

خالد ال واخیدی ڈائیریکٹر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا کہنا تھا کہ "آر ٹی اے نے دبئی ٹیکسیوں میں نصب سمارٹ کیمروں کے ڈویلپر ، اکاسس ٹیکنالوجیز کے تعاون سے ٹیکسی ڈرائیوروں کے طرز عمل کی نگرانی کے لئے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیاہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد ٹیکسی ڈرائیوروں کا قواعد و ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانا ہے جس سے ڈرائیور اور مسافروں دونوں کی حفاظت کا یقینی ہوسکے”

"مسافروں کی شکایات کی تصدیق کے لیے ٹیکسیوں میں لگائے جانے والے کیمروں کے برعکس یہ ٹیکنالوجی موقع پر ڈرائیور کے روڈ پر چلنے والے عمل کو جاننے کے لئے ایک عملی اقدام ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہم سڑک پر ڈرائیور کی کارکردگی کا لگاتار اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہمیں ڈرائیوروں کو الرٹ بھیجنے میں مدد ملتی ہے یا تیزرفتاری ، اچانک رکنے یا بریک کا غیر ضروری استعمال جیسی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ان کو وارننگ دینے میں آسانی ہوتی ہے۔

مصنوعی زہانت کی یہ ٹیکنالوجی ہمیں ان بنیادی عوامل کو جاننے کے قابل بھی بناتی ہیں جو ڈرائیوروں کو ناقابل قبول طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم سڑک کی حالت یا اس طرح کے واقعات کو متحرک کرنے والے دیگر حالات پر بھی غور کرسکتے ہیں۔”ٹیکنالوجی ہمیں ڈرائیور کے خلاف مناسب کاروائی کرنے میں مکمل شفاف مدد فراہم کرے گی”.

"ڈرائیور کے سڑک پر چلنے والے طرز عمل کے بارے میں تصاویر کا معیار جن کا تجزیہ کرنے کے لئے مانیٹرنگ سینٹر بنایا گیا ہے اور اس کا جائزہ 99.92 فی صد تک سہی ہے۔ ہم اس کیفیت کو 99.98 فیصد تک بڑھانے کے لئے اکاسس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم مزید بہتری لائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوٹیفکیشن سسٹم اور اے آئی ٹیکنالوجیز کے تعاون سے ڈرائیوروں کی کارکردگی کا ایک جامع جائزہ لیا جائے گا۔

"ہم دبئی اور متحدہ عرب امارات کی ایک سب سے بڑی سرکاری تنظیم آر ٹی اے کے ساتھ تعاون کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور ٹیکسی سواروں کی راحت اور خوشی پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ ٹیکسیاں نقل و حمل کا ایک ذریعہ ہیں جس میں رازداری کو برقرار رکھنا اور اعلی معیار مہیا فراہم کرنا اولین ترجیح ہے ” اکالس ٹیکنالوجیز کے بانی اور سی ای او طلال بین حلیم نے کہا۔

بین حلیم نے کہا ، "اس ٹکنالوجی سے ہم ڈرائیوروں اور سواروں کے چال چلن کی نگرانی میں بھی مدد کریں گے کیونکہ کوویڈ 19 سے لڑنے کے لئے احتیاطی تدابیر جیسے جسمانی فاصلے اور چہرے کے ماسک پہننے کی تعمیل کے سلسلے میں بھی مدد ملے گی۔”

آر ٹی اے نے اس سے قبل کویوڈ – 19 سے لڑنے کے لئے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے اور ان کی اطلاع دہندگی کے لئے اے آئی ٹیکنالوجیز ، جیسے کمپیوٹر وژن اور مشین لرننگ الگورتھم کا استعمال کیا ہے۔ اس طرح کی نگرانی میں جہاز والی ٹیکسیوں پر چہرے کے ماسک پہننے اور چہرے سے ماسک ہٹانے کو نوٹ کیا گیا ہے ، چاہے وہ مسافر ہوں یا ڈرائیور۔

بشکریہ: خلیج ٹائمز

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button