متحدہ عرب امارات

سعودی عرب، قطر اور عمان نے ٹرمپ کو ایران پر حملے سے روک لیا: سعودی عہدیدار

ریاض:
ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور عمان نے مشترکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملے سے باز رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ایسے اقدام سے خطے میں “سنگین ردِعمل” پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خلیجی ممالک نے آخری لمحات میں ایک طویل اور ہنگامی سفارتی مہم چلائی تاکہ صدر ٹرمپ کو قائل کیا جا سکے کہ ایران کو نیک نیتی ظاہر کرنے کا ایک موقع دیا جائے۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے تاحال جاری ہیں۔

اسی دوران قطر میں واقع ایک بڑے امریکی فوجی اڈے سے بعض اہلکاروں کو منتقل کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب اور کویت میں امریکی مشنز کے عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی، کیونکہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر امریکی حملے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔

امریکہ اس سے قبل بارہا خبردار کر چکا تھا کہ وہ ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی پر مداخلت کر سکتا ہے، جبکہ تہران نے جواباً خلیج میں امریکی فوجی تنصیبات اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ خلیجی خطے میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈے اور اثاثے موجود ہیں۔

تاہم متعدد دھمکیوں کے بعد صدر ٹرمپ نے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں “دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع” کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران مظاہرین کو پھانسی نہیں دے گا۔

سعودی عہدیدار کے مطابق ان سفارتی کوششوں کا مقصد خطے کو ایک ناقابلِ کنٹرول صورتحال میں جانے سے روکنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو واضح پیغام دیا گیا کہ ایران پر حملہ خطے میں شدید اور خطرناک ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے۔

عہدیدار نے کہا، “یہ ایک بے خوابی بھری رات تھی تاکہ خطے میں مزید بم پھٹنے سے روکا جا سکے۔ اعتماد کو مضبوط بنانے اور موجودہ مثبت فضا کو برقرار رکھنے کے لیے رابطے اب بھی جاری ہیں۔”

ایک اور خلیجی عہدیدار کے مطابق ایران کو یہ پیغام بھی پہنچایا گیا ہے کہ خلیج میں امریکی تنصیبات پر کسی بھی حملے کے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button