متحدہ عرب امارات

بڑی خوشخبری! شارجہ میں جنوری 2026 سے ایسکرو اکاؤنٹ سسٹم نافذ: جائیداد خریداروں کا سرمایہ مکمل طور پر محفوظ

خلیج اردو
شارجہ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اہم اصلاحات کے تحت جنوری سے ایسکرو اکاؤنٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے، جب کہ اس ضمن میں پہلا معاہدہ اسی ماہ کے آخر تک متوقع ہے۔ شارجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر بزنس گروپ کی نمائندہ کمیٹی کے چیئرمین سعید غانم السویدی نے کہا کہ امارات مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق قوانین کو مسلسل اپڈیٹ کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل فری ہولڈ قانون نافذ کیا گیا تھا اور اس سال شارجہ میں منعقد ہونے والی اےکرز 2026 رئیل اسٹیٹ نمائش میں پہلا ایسکرو اکاؤنٹ باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس سے قبل ڈیولپرز کے لیے 20 فیصد بینک گارنٹی لازمی تھی، تاہم اب ایسکرو اکاؤنٹ سسٹم کے نفاذ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد نمایاں حد تک بڑھے گا۔

سعید غانم السویدی نے مزید کہا کہ ایسکرو اکاؤنٹ ڈیولپرز کو منصوبوں کی مؤثر تکمیل میں زیادہ لچک بھی فراہم کرے گا۔ اس نظام کے تحت جائیداد کے خریدار اپنی ادائیگیاں بینک کے زیر انتظام اکاؤنٹ میں جمع کراتے ہیں، جہاں سے تعمیراتی مراحل کی تکمیل کے مطابق ڈیولپرز کو رقوم جاری کی جاتی ہیں، اس طرح خریداروں کے سرمائے کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

سنہ 2024 میں شارجہ نے رئیل اسٹیٹ شعبے سے متعلق کئی نمایاں اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں ایگزیکٹو کونسل ریزولوشن نمبر 37 آف 2024 شامل ہے جو منصوبوں کی رجسٹریشن، ایسکرو اکاؤنٹس کے نظام اور مالی شفافیت کو منظم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ فری ہولڈ قانون کے تحت تمام قومیتوں کے سرمایہ کاروں کو شارجہ میں جائیداد خریدنے کی اجازت دی گئی، جس سے رہائشی اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور اربوں درہم کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی۔

نومبر 2025 میں شارجہ کے رئیل اسٹیٹ شعبے نے 9.5 ارب درہم مالیت کے لین دین کے ساتھ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا، جو اب تک کا سب سے بلند ترین ماہانہ حجم ہے۔ یہ تمام اقدامات شارجہ کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو زیادہ مضبوط، شفاف اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button