متحدہ عرب امارات

شارجہ میں خواتین اور بچے کی اموات نے گھریلو تشدد، ذہنی صحت پر فوری توجہ کی ضرورت کو اجاگر کر دیا

خلیج اردو
شارجہ: حالیہ دنوں میں شارجہ میں پیش آنے والے دو دلخراش واقعات نے نہ صرف کمیونٹی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ ماہرین اور سماجی کارکنان کی جانب سے گھریلو تشدد کے نفسیاتی اثرات اور بروقت ذہنی صحت کی معاونت کی فوری ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

پہلا واقعہ ایک نوجوان بھارتی ماں اور اس کی شیر خوار بیٹی کا ہے، جن کی ہلاکت کو حکام ممکنہ خودکشی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے پیچھے طویل مدتی گھریلو تشدد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صرف نو دن بعد، 30 سالہ اتھولیا شیکھر کی لاش شارجہ کے رولا پارک کے قریب ان کے اپارٹمنٹ میں ملی۔

یہ واقعات اُن خاموش اذیتوں کو بے نقاب کر رہے ہیں جو بہت سی خواتین برسوں سے سہتی ہیں، اکثر اس احساس کے بغیر کہ ان کے لیے مدد موجود ہے۔

’خاموشی کی قیمت جان ہو سکتی ہے‘

شارجہ میں مقیم سماجی کارکن عبداللہ کمانپلام نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ کیسز ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ خاموش تکلیف کے نتائج کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی گھریلو تشدد کا شکار ہے تو وہ جان لے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ مدد موجود ہے۔ کسی قابلِ اعتماد دوست، رشتہ دار یا پیشہ ور سے فوری رابطہ کریں۔”

’نفسیاتی تباہی‘

ابوظبی کے میڈیور اسپتال میں ماہر نفسیات ڈاکٹر بینو میری چاکو کا کہنا تھا کہ طویل مدتی تشدد ڈپریشن، بے بسی اور خودکشی کے خیالات کو جنم دیتا ہے۔ "متاثرہ خواتین اکثر ’سیکھے ہوئے بے بسی‘ کے مرحلے میں چلی جاتی ہیں، جہاں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بچ نہیں سکتیں یا مدد نہیں لے سکتیں۔”

دوسری جانب، میڈ کیئر کمالی کلینک میں معالج و مشیر کیرولین یافی نے بتایا کہ بیرونِ ملک رہنے والی خواتین کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے خاندان یا سوشل نیٹ ورک سے دور ہوتی ہیں، جس سے نفسیاتی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ "ان میں بے چینی، پی ٹی ایس ڈی اور خود اعتمادی کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے۔”

’بچوں پر تباہ کن اثرات‘

ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر چاکو کے مطابق، "ایسے بچے ڈپریشن، بے چینی اور مستقبل میں شخصیت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔”

کئی مائیں قانونی پیچیدگیوں، بچوں کی کسٹڈی کے خوف یا سماجی بدنامی کے باعث خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ "چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑے فرق ڈال سکتے ہیں۔”

’خاموشی بسا اوقات زندہ رہنے کی کوشش ہوتی ہے‘

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین اکثر بدنامی، عدم اعتماد، یا بچوں سے جدائی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔ "یہ خاموشی قبولیت نہیں، بلکہ مجبوری اور بقا کی کوشش ہوتی ہے،” یافی نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اردگرد موجود لوگوں، جیسے کہ دوستوں، ہمسایوں اور کولیگز کو بھی خبردار رہنا چاہیے۔ "اچانک رویے میں تبدیلی، اداسی، الگ تھلگ ہو جانا یا کام میں دلچسپی کا ختم ہونا خطرے کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔”

ایک سادہ سا جملہ — "آپ ٹھیک نہیں لگ رہے، اگر بات کرنا چاہیں تو میں یہاں ہوں” — بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

’مدد لیں، زندگی قیمتی ہے‘

عبداللہ کمانپلام نے زور دیا کہ ذہنی صحت اور گھریلو تشدد پر کھل کر بات کرنا معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ "ہمیں متاثرین کو پیشہ ورانہ مدد لینے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، جیسے کہ ہاٹ لائنز یا مشاورت کے مراکز۔”

یافی نے متاثرہ خواتین کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا،
"اگر آپ خاموشی سے اذیت سہہ رہی ہیں، تو یاد رکھیں: آپ اکیلی نہیں ہیں۔ آپ کی تکلیف حقیقی ہے۔ شفا ممکن ہے، آزادی ممکن ہے، اور آپ اس کی مستحق ہیں کہ آپ محفوظ اور باعزت زندگی گزاریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button