
خلیج اردو آن لائن: ایک ایسے وقت میں جب متحدہ عرب امارات مریخ پر مشن بھیجنے کا شددت سے انتظار کر رہا ہے، دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان متحدہ عرب امارات کے مریخ پر جانے کے پیچھے چھپے راز پر سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان بن محمد بن المکتوم یو اے ای کے مریخ پر جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مریخ پر جانے کا مقصد محض عالمی مظاہر کھوج کرنا اور نئی دریافتیں کرنا ہی نہیں ہے۔ بلکہ مریخ پر جانے کا مقصد ناممکنات کو تسخیر کرنے کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم مریخ پر جائیں گئے کیونکہ ہم نوجوانوں کےایک لیے ایک نیا کلچر بنانا چاہتے ہییں۔ تاکہ انکو یقین دلا سکیں کہ کچھ بھی کرنا ممکن ہے اور امارات کے لوگ اپنے کسی بھی خواب کو حاصل کر سکتے ہیں”۔
"شیخ ہمدان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد پروب بنانا اور اسے لانچ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ہم ایک مقصد انسانیت کی تعمیر ہے۔ شیخ ہمدان کہ اس سفر کا آغاز شیخ زید مرحوم اور شیخ راشد نے شروع کیا تھا اور اب شیخ محمد بن زید اور شیخ محمد بن راشد اسے سائنس، علم، خوابوں اور آسمانوں تک پہنچ جانے والے جذبے کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں”۔
شیخ ہمدان کہتے ہیں کہ "مریخ کی جانب سفر آںے والے 50 سالوں کی طرف سفر ہے۔ پچھلے 50 سال یو اے ای کے صحرا سے شروع ہوئے جبکہ اگلے 50 سال مریخ کے صحرا سے شروع ہوں گے۔ یو اے ای مریخ پر تمام عرب ممالک کے لیے جائے گا۔ متحدہ عرب امارات مریخ اس لیے جانا چاہتے کیوںکہ ہم عرب ممالک میں عربی احیاء علم کے لیے سب سے آگے کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ ہمارا مریخ کا مشن تمام عربوں کے لیے امید کا پیغام ہے”۔
شیخ ہمدان ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں مریخ کے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے کی گئی محنت کو دکھایا گیا ہے۔
https://twitter.com/HamdanMohammed/status/1283314748772298753?s=20
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات Hope probe یعنی امید کی کھوج نامی مشن 15 جولائی کو روانہ کرنا چاہتا تھا۔ تاہم ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس لانچ کو 17 جولائی تک بڑہا دیا گیا تھا۔ لیکن خراب موسم کی وجہ سے مشن 17 جولائی کو بھی روانہ نہیں کیا جا سکا۔ تاہم اگلے 24 گھنٹے میں نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
Source : Khaleej Times







