متحدہ عرب اماراتمتحدہ عرب امارات کرونا اپڈیٹ

خبردار:متحدہ عرب امارات حکومت کا جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا عندیہ۔

قانون کے مطابق ایسے افراد کو ایک سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔

خلیج اردو ان لائن نیوز 15 جولائی 2020

دبئی: واٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات اور افواہوں کو آگے پھیلانے والے افراد کو کم از کم ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے ، دبئی پبلک پراسیکیوشن نے خبردار کیا ہے۔

سینئر پراسیکیوٹر ڈاکٹر خالد الجنبی نے کہا کہ وبائی مرض کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوام میں پھیلائے گئے بہت سے پیغامات میں ایسی غلط معلومات شامل کی گئی ہیں جو معاشرے کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتی تھیں اور منفی جذبات پیدا ہوسکتے تھے۔

“بہت سے لوگ اپنے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات کو سرکاری چینلز کے ذریعہ تصدیق کیے بغیر فارورڈ کرتے ہیں۔ اس عمل سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ پیغام غلط معلومات پر مبنی ہوسکتا ہے اور آپ اس کو پھیلانے کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں حالانکہ آپ کی نیت نیک ہوتی ہے "پراسیکیوٹر الجنبی نے افواہوں کو پھیلانے کے خطرات سے متعلق ایک سیشن کے دوران یہ بات کہی۔

“لوگ دوسروں کو بھیجنے والے پیغامات کے ذمہ دار ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کے ان کا غلط معلومات کو منتقل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔وہ اپنے اور معاشرے کے ذمہ دار ہیں۔

دبئی پبلک پراسیکیوشن کے مطابق اگر متحدہ عرب امارات کے وفاقی قانون کے آرٹیکل 198 کے مطابق کوئی افواہیں پھیلانے میں ملوث ہے تو ہیں تو اسے کم سے کم ایک سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

پراسیکیوٹر الجنبی نے کہا کہ کچھ لوگ تو ان کے واٹس ایپ پر موصول ہونے والا پورا پیغام بھی نہیں پڑھتے ہیں ، لیکن اسے سمجھے بغیر دوسروں کو بھیج دیتے ہیں حالانکہ وہ پیغام صرف ایک افواہ ہوتی ہے۔

لوگوں کو یہ پیغام آگے بھیجنے سے پہلے اس پیغام کو چیک کرنا چاہئے ، "الجنبی نے مزید کہا۔

مثال کے طور پر ، انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے شاپنگ مالز کو دوبارہ کھولنے کے بعد ان کے دوبارہ بند ہونے کے بارے میں حالیہ افواہوں نے اس وقت تک بہت زیادہ الجھن پیدا کردی جب تک کہ متعلقہ اتھارٹی نے اس سے انکار نہیں کیا۔

“لوگ اس پیغام کو گردش کرتے رہے اور یہ وائرل ہوگیا۔ پیغام آگے بڑھنے سے عوام میں الجھن پیدا ہوگئی۔ اگر صرف لوگ ہی پیغامات کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کرتے تو اس سے بچا جاسکتا تھا۔ایسے پیغامات کو مسدود کرکے افواہوں سے لڑنے کی ذمہ داری معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔

بشکریہ:گلف نیوز

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button