
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں کچھ رہائشیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے کام کا دن صبح 6 بجے شروع کیا جائے تاکہ وہ دن کا بہتر استعمال کر سکیں۔ فجر کی نماز، صبح کی ورزش یا جلدی جاگنے کی عادت رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مکمل طور پر بیدار ہوتے ہیں، مگر انہیں دفتری اوقات کے آغاز تک کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
دبئی کی رہائشی آمنہ الحمادی نے کہا، "میں فجر کی نماز کے لیے صبح 4 بجے جاگتی ہوں، نماز اور ناشتہ کے بعد مکمل طور پر بیدار ہوتی ہوں۔ مگر پھر بھی دفتر کے اوقات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر 6 بجے ہی کام شروع ہو جائے تو میں دوپہر تک فارغ ہو سکتی ہوں۔” ان کا ماننا ہے کہ گرمیوں میں یہ تبدیلی خاص طور پر فائدہ مند ہوگی کیونکہ دوپہر کے بعد کی گرمی انسان کو نڈھال کر دیتی ہے۔
اسی طرح ایک امریکی شہری، ایلکس، جو دبئی میں سیلز کے شعبے سے وابستہ ہیں، روزانہ صبح 5 بجے دوڑ لگاتے ہیں اور اس کے بعد جم جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "6 بجے تک میں مکمل طور پر چوکنا ہوتا ہوں، مگر کام کے آغاز کا انتظار کرتے ہوئے میری توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر میں 2 یا 3 بجے فارغ ہو جاؤں تو نہ صرف دوپہر کا کھانا سکون سے کھا سکتا ہوں بلکہ شام کو بھی بہتر طریقے سے گزار سکتا ہوں۔”
طبی ماہرین بھی اس خیال کی تائید کرتے ہیں۔ دبئی میں مقیم ماہرِ صحتِ ملازمت، ڈاکٹر ریم المرزوقی نے بتایا کہ فطری توانائی کے مطابق دن کا آغاز کرنے سے کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "صبح کے وقت جسم میں کورٹیسول کی سطح بلند ہوتی ہے، جو توجہ اور چستی میں مدد دیتی ہے۔ ایسے وقت میں کام کا آغاز بہتر نتائج دے سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ گرمی کے شدید موسم والے علاقوں میں، جیسے کہ امارات، دوپہر سے پہلے کام ختم کرنا ملازمین کو تھکن اور گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ نظام کئی افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر ہر ایک پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر ریم کہتی ہیں، "ہر شخص کا جسمانی گھڑیال مختلف ہوتا ہے، بعض افراد رات کے وقت زیادہ فعال ہوتے ہیں، ان پر صبح 6 بجے کا آغاز زبردستی لاگو کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔”
انہوں نے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ ملازمین کی فلاح اور بہتر کارکردگی کے لیے لچکدار اوقات کار متعارف کروائیں۔ "ہفتے میں دو دن صبح 6 سے دوپہر 2 بجے تک کی آزمائشی شفٹ سے ادارے یہ جان سکتے ہیں کہ کون سا نظام بہتر ہے۔





