متحدہ عرب امارات

دبئی میں ٹیسلاسوٹ: 1500 ڈالر کا جدید لباس جو باکسنگ کے گھونسے کا احساس دلاتا ہے، درد کے بغیر

خلیج اردو
دبئی: 22 اپریل — اگر آپ نے کبھی سوچا ہے کہ باکسنگ کے دوران پیٹ پر گھونسہ کھانا کیسا محسوس ہوتا ہے، تو اب یہ تجربہ دبئی میں ممکن ہو چکا ہے، وہ بھی بغیر کسی جسمانی تکلیف کے۔ دبئی اے آئی ویک میں پیش کیے گئے "ٹیسلاسوٹ” کی قیمت 1500 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، اور یہ دبئی میں دستیاب ہے۔

یہ خاص سوٹ مکمل آستینوں والی جیکٹ اور لمبی پتلون پر مشتمل ہے، جو پہننے والے کو باکسنگ رنگ میں لے جاتا ہے جہاں وہ برطانوی عالمی باکسنگ چیمپئن عامر خان کے ساتھ وی آر چشمے اور ہاپٹک کنٹرولر کی مدد سے داؤ آزما ہو سکتا ہے۔ سوٹ میں لگے سینسر بازو، پیٹ اور کمر پر برقی دھچکے پہنچاتے ہیں، جو گھونسے جیسا احساس دیتے ہیں۔ کنٹرولر کے ذریعے آپ خود بھی جوابی گھونسے مار سکتے ہیں، جبکہ رنگ ایک وسیع ہال کے مرکز میں واقع ہوتا ہے جس میں سیکڑوں تماشائی موجود ہوتے ہیں۔ ہر گھونسے پر تالیوں اور نعروں کی گونج سنائی دیتی ہے۔

برطانیہ میں قائم اس کمپنی نے اب متحدہ عرب امارات میں توسیع کے لیے شراکت دار تلاش کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ کمپنی کی اسٹریٹجک پارٹنرشپ ڈائریکٹر انا وِنز نے بتایا، "یہ ہماری دوسری نمائش ہے، اور ہم دبئی میں شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔ ہم جلد یہاں موجودگی چاہتے ہیں اور مقامی منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں۔”

ٹیسلاسوٹ کا تصور 2010 میں سامنے آیا، لیکن یہ حقیقت 2016 میں بنی۔ ابتدا میں اسے گیمنگ کے لیے ایک انٹرایکٹو تجربے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن اب اس کا دائرہ کار کئی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

کمپنی کے میڈیکل انوویشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر خالد رستموف کے مطابق، "یہ کورونا وبا کے دوران تھا جب ٹیسلاسوٹ نے مقبولیت حاصل کی۔ اس وقت کمپنیاں میدان میں جانے سے قاصر تھیں، تو اس سوٹ کو تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔”

اب یہ سوٹ دفاع، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صنعتی اور طبی شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کی افواج اس کا استعمال ہنگامی حالات کی تربیت کے لیے کر رہی ہیں۔ ایک میڈیکل سینٹر میں اسے ریہیبلیٹیشن کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ سے متاثرہ مریض چلنے میں بہتری لا سکیں۔

کمپنی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا رہی ہے تاکہ اس کی افادیت میں اضافہ ہو۔ ڈاکٹر خالد کے مطابق، "ہم اس سوٹ میں مصنوعی ذہانت شامل کر رہے ہیں تاکہ بایومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے، جو کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button