
خلیج اردو
دبئی: خلیجی خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث ایران کے متعدد شہری جو متحدہ عرب امارات میں مقیم یا وزٹ ویزا پر موجود تھے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھے، تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایرانی شہریوں کے لیے ویزا خلاف ورزی پر جرمانے معاف کرنے کے فیصلے نے انہیں سکون کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔
ہنزالہ اے، جو چند ماہ قبل وزٹ ویزا پر دبئی آئے تھے، نے بتایا کہ وہ ویزا کی مزید توسیع نہ ہونے پر قطر یا عمان جانے کا سوچ رہے تھے، مگر منگل 17 جون کے حکومتی اعلان نے ان کی پریشانی کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا، "اب میں صرف فضائی راستے کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ وطن واپس جا سکوں۔”
انہوں نے کہا، "متحدہ عرب امارات کی قیادت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ کورونا کے دوران بھی یو اے ای نے ہر قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کی مدد کی، اور یہ حالیہ اقدام اسی ہمدردی کی ایک اور مثال ہے۔”
وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سیکیورٹی (ICP) نے اعلان کیا ہے کہ یو اے ای میں موجود تمام ایرانی شہری — خواہ وہ رہائشی ہوں یا کسی بھی قسم کے ویزا پر آئے ہوں — ان پر زائد قیام کے جرمانے لاگو نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جو خطے میں جاری غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں ایک انسانی ہمدردی کے اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
دبئی میں مقیم ایرانی تارک وطن رضا ایم نے کہا، "میں تہران واپس جانے والا تھا مگر میری پرواز منسوخ ہو گئی، اور ویزا بھی ختم ہو چکا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوگا۔ اس خبر نے میرے دل سے ایک بڑا بوجھ ہٹا دیا ہے۔”
شارجہ میں مقیم ایرانی خاتون استانی نازنین نے بتایا کہ ان کے والدین وزٹ پر آئے تھے اور وہ ان کے ویزا میں توسیع کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا، "آخر کار جب منگل کو یہ اعلان ہوا تو دل کو سکون ملا۔ ہمیں لگ رہا ہے کہ یو اے ای کی قیادت نے واقعی ہمیں محسوس کیا ہے۔”
آئی سی پی کے مطابق، "یہ رعایت ان غیرمعمولی حالات کے تناظر میں دی جا رہی ہے، تاکہ اُن افراد کو ریلیف دیا جا سکے جو فضائی راستے بند ہونے اور پروازوں کی معطلی کے باعث وطن واپس نہیں جا سکے۔”
یو اے ای میں سیاحتی اداروں کا کہنا ہے کہ ایرانی شہریوں کی جانب سے مدد کے لیے رابطوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ وائس فاکس ٹورازم کے سینیئر مینیجر سبیر تھیکے پوراتھوالا پل نے کہا، "عمومی طور پر ایرانی شہری ویزا میں توسیع کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں یا ان کنٹری ویزا چینج کرواتے ہیں، مگر موجودہ حالات میں وہ بھی ممکن نہیں رہا۔”
انہوں نے مزید کہا، "ایسے وقت میں اس جرمانے کی معافی نے بہت سے لوگوں کو ایک واضح راستہ دیا ہے۔”







