متحدہ عرب امارات

امریکی خواب بھارتی طلبہ کے لیے مدھم پڑ گیا

خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث بھارت اور امریکہ کے تعلقات کا ایک اہم پہلو شدید متاثر ہوا ہے اور امریکہ میں تعلیم کے لیے جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2024 سے مارچ 2025 کے دوران دنیا بھر میں جاری کیے گئے طلبہ ویزوں کی تعداد میں 15 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ بھارت سے امریکہ جانے والے طلبہ میں یہ کمی 43.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان کی وجہ وائٹ ہاؤس کی سخت امیگریشن پالیسی، آئیوی لیگ یونیورسٹیوں سے صدر ٹرمپ کی محاذ آرائی، اور بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ کی ملک بدری ہے۔ ویزا انٹرویوز مزید مشکل بنا دیے گئے ہیں، جن میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ لازمی کر دی گئی ہے، اور ہزاروں طلبہ ویزا سیزن کے دوران انٹرویوز کے اچانک روک دیے جانے کے باعث غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہو گئے ہیں۔

یہ صورتحال امریکی جامعات کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ وہ بین الاقوامی طلبہ کی فیس پر انحصار کرتی ہیں۔ صرف ہارورڈ یونیورسٹی میں 30 فیصد طلبہ غیر ملکی ہیں، جبکہ امریکہ میں زیرِ تعلیم 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی طلبہ میں سے 3 لاکھ سے زیادہ کا تعلق بھارت سے ہے۔ فروری میں وزیراعظم نریندر مودی کے واشنگٹن دورے کے دوران جاری مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا تھا کہ بھارتی طلبہ امریکی معیشت میں سالانہ 8 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالتے ہیں۔

تاہم موجودہ پالیسیوں نے بھارتی طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے امریکہ کو کم پرکشش بنا دیا ہے۔ بڑھتی نسلی تعصب، سخت ویزا شرائط اور روزگار کے غیر یقینی امکانات نے کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے متبادل مقامات کو زیادہ مقبول بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس رجحان کے منفی اثرات برسوں محسوس کیے جائیں گے، اور کئی بھارتی طلبہ کے لیے امریکی خواب اب فائدے کے بجائے نقصان کا سودا بنتا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button