خلیج اردو
21 اکتوبر 2020
دبئی: دبئی حکام کی جانب سے سیاحتی ویزے کی پالیسی میں تبدیلیوں کو ایک ہفتہ گزر گیا لیکن لوزمات مکمل نہ کرنے کے کیسز اب بھی موجود ہیں۔ اب بھی نامکمل شرائط کی وجہ سے سیاحتی ویزہ ہولڈرز دبئی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر محسور ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے میں متعدد سیاحوں کو دبئی داخلے سے روکا گیا کیونکہ وہ ان شرائط پر پورا نہیں اتررہے تھے جو حکام نے وضع کیے ہیں۔
متعداد سیاحوں کو ملک واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ کچھ سیاح اب بھی اپنے کوائف پورے کرنے کی کوشش میں دبئی اہیرپورٹ پر محسور ہیں جن کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس حوالے سے خلیج ٹائمز نے ڈی جی آر ایف اے سے رابطے کرکے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
دوبئی میں پاکستانی قونصلیٹ کے مطابق 98 پاکستانی متحدہ عرب امارات کے دبئی ایئرپورٹ پر محسور ہیں۔ اب تک 1374 پاکستانیوں کو داخلہ نہیں دیا گیا جن میں سے 1276 کو ملک واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ باقیوں کو 12 گھنٹوں میں ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ انہیں ایئرپورٹ پر کھانا اور دیگر ضروری سہولیات دی گئی ہے۔
پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی نے دبئی ایئرپورٹ حکام ، ایمیگریشن اور پی آئی اور اور ایئربلیو کے جنرل منیجر سے ملاقات کرکے محسور مسافروں کے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایئرپورٹ پر محسور 66 بھارتیوں میں سے 17 کو ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔ باقی ماندہ کو ملک واپس جانے کیلئے جہازوں میں نشستیں ملنے کا مسئلہ ہے۔
کچھ بنگلادیشیوں کو بھی دبئی ایئرپورٹ پر اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ابوظبہی میں بنگلادیشی سفارتی مشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بنگلادیشیوں کی کافی کم تعداد ایسی ہے جو ایئرپورٹ پر ان مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے رولز ایسے بنائے ہیں کہ بنگلادیشیوں کو دبئی کی جانب سے وضح کیے گئے لوازمات پورے کیے بغیر امارات جانے ہی نہیں دیتے۔
اس حوالے سے بیمن ایئرلائنز نے کافی سخت ضوابط بارے مراسلہ جاری کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ویزہ ہولڈرز کے پاس ریٹرن ٹکٹ ، 2000 درہم یا اتنی مالیت کی رقم ، ہوٹل میں کمرے کی بکنگ ، جی ڈی آر ایف اے اور آئی سی اے کا اجازت نامہ اگر نہیں ہے تو انہیں جہاز میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے دبئی میں وزٹ ویزہ پر آنے والوں کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ اپنے ساتھ ریٹرن ٹکٹ لازمی لے کے جائیں۔ ڈمی یا جعلی بکنگ نہ کروائیں ورنہ قانونی طور پہ آپ کو بورڈنگ سے منع کردیا جائے گا یا آپ کو ائیرپورٹ سے واپس بھیج دیا جائے گا۔ آپ کے خلاف اور آپ کے ٹریول ایجنٹ کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے
ہوٹل کی کنفرم بکنگ ساتھ میں لے کے جانا ضروری ہے۔ بکنگ کنفرم نہ ہونے کی صورت میں بھی آپ کو بورڈنگ سے منع یا ائیرپورٹ سے واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
ٹریول انشورنس کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے اپنے ساتھ اصلی انشورنس لے کے جانا ضروری ہے۔ جعلی انشورنس پہ بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
اپنے ساتھ وہاں پہ رہنے اور تمام سرگرمیوں کیلئے کم سے کم دو ہزار درھم یا اتنی مالیت کی فارن کرنسی لے کے جانا ضروری ہے بصورت دیگر آپ کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
ان تمام ہدایات پہ عمل کریں اور قانون کی پاسداری کریں۔







