
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی کے ساتھ سہ فریقی ٹیلی فونک گفتگو کی، جس کا مقصد اسرائیل اور قطر کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کے بعد تعلقات میں بہتری لانا تھا۔
مذاکرات کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر میں حماس کے اہداف پر اسرائیلی میزائل حملے پر افسوس کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں ایک قطری اہلکار جاں بحق ہوا تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ حملہ یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات کے دوران ہوا اور قطری خودمختاری کی خلاف ورزی تھی، ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق، شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکہ کی جانب سے قطر کے دفاعی شراکت داری کے عزم اور اسرائیل کی یقین دہانیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور شہریوں و رہائشیوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ نیتن یاہو اور الثانی نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر سہ فریقی مکینزم قائم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے، غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے خطرات کو روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کے امن اور خطے کی سلامتی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کے عزم کو سراہا۔







