خلیج اُردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے چین کے ساتھ محصولات میں نرمی کے معاہدے (ٹریف ٹروس) کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب صرف چند گھنٹے باقی تھے کہ امریکی محصولات چینی مصنوعات پر 145 فیصد اور چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد تک پہنچ جاتے، جس سے عملی طور پر تجارتی تعلقات معطل ہو سکتے تھے۔
اس وقت چینی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 30 فیصد ہیں، جن میں 10 فیصد بنیادی شرح اور 20 فیصد فینٹانائل سے متعلق محصولات شامل ہیں، جو رواں سال فروری اور مارچ میں نافذ کیے گئے تھے۔ چین نے بھی اپنے نرخ امریکی مصنوعات پر کم کر کے 10 فیصد کر دیے ہیں۔
مئی میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے 90 دن کی مہلت پر اتفاق کیا تھا تاکہ مزید بات چیت ہو سکے۔ جولائی کے آخر میں اسٹاک ہوم میں دوبارہ ملاقات ہوئی مگر اس وقت توسیع کا اعلان نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے سابق تجارتی عہدیدار کیلی این شا کے مطابق یہ فیصلہ "ٹرمپ طرزِ مذاکرات” کے عین مطابق آخری لمحات میں کیا گیا اور اس کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے دیگر پہلوؤں میں پیش رفت کا بھی امکان ہے۔
سابق امریکی تجارتی عہدیدار رائن ماجیرس نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں جانب کی بے چینی کم کرے گا اور ممکنہ فریم ورک ڈیل کے لیے وقت فراہم کرے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان معاہدے کی بنیاد موجود ہے اور وہ مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو چین سے امریکی سویا بین کی خریداری چار گنا بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ماہرین نے اس مطالبے کی عملی حیثیت پر سوال اٹھایا اور ٹرمپ نے پیر کو یہ بات دوبارہ نہیں دہرائی۔ واشنگٹن نے بیجنگ پر روسی تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا ہے، اور اس حوالے سے اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔







