
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں صحت مند طرز زندگی اپنانے کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری، نئی عالمی تحقیق کے مطابق روزانہ تقریباً 7,000 قدم چلنے سے دائمی بیماریوں، ذہنی تنزلی اور قبل از وقت موت کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ یہ تحقیق دی لانسیٹ پبلک ہیلتھ جرنل میں شائع ہوئی ہے جس میں دنیا بھر کے 160,000 سے زائد بالغ افراد کا ڈیٹا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 10,000 قدم روزانہ چلنے کا غیر رسمی ہدف اگرچہ مروجہ ہے، تاہم حقیقت پسندانہ اور قابلِ حصول ہدف 7,000 قدم روزانہ ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو کم متحرک زندگی گزار رہے ہیں۔ تحقیق کی مصنفہ میلوڈی ڈِنگ، جو سڈنی سکول آف پبلک ہیلتھ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ "10,000 قدم کے ہدف کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بعض امراض میں 7,000 قدم کے بعد بھی خطرات میں کمی آتی رہتی ہے، البتہ ہر 1,000 اضافی قدم کا فائدہ بتدریج کم ہوتا ہے۔”
میلوڈی ڈنگ کا کہنا تھا کہ جو افراد پہلے سے 10,000 قدم کا ہدف پورا کر رہے ہیں، وہ اپنی سرگرمی جاری رکھیں، تاہم جو افراد اس ہدف سے کافی دور ہیں، ان کے لیے روزانہ 7,000 قدم چلنا تقریباً یکساں طبی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بیٹھے بیٹھے گزارے جانے والے وقت اور فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال نے موٹاپے کی شرح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، جو کہ دائمی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک اور لانسیٹ تحقیق کے مطابق یو اے ای میں مرد و خواتین میں موٹاپے کی شرح آئندہ ڈھائی دہائیوں میں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تحقیق کے مطابق 2021 میں 25 سال سے زائد عمر کے مردوں میں موٹاپے اور زائد وزن کی شرح 84 فیصد تھی، جو 2050 تک 94 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہو گی۔
لانسیٹ پبلک ہیلتھ جرنل کی یہ تحقیق پہلی بار مختلف بیماریوں پر قدموں کی تعداد کے اثرات کا جامع تجزیہ ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ 2,000 قدم کے مقابلے میں 7,000 قدم چلنے سے مجموعی اموات کا خطرہ 47 فیصد، قلبی امراض کا 25 فیصد، کینسر کا 6 فیصد، ذیابیطس ٹائپ 2 کا 14 فیصد، ڈیمینشیا کا 38 فیصد، ڈپریشن کا 22 فیصد اور گرنے کے واقعات کا 28 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ صرف 2,000 قدم چلنے سے بھی غیر متحرک زندگی کے مقابلے میں صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔







