متحدہ عرب امارات

یو اے ای: 15 سالہ سوڈانی طالبعلم سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق، مصنوعی ذہانت کا ماہر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا

خلیج اردو
العین: متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں ایک افسوسناک واقعے میں 15 سالہ سوڈانی طالبعلم عمر یوسف عمر سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ یہ واقعہ جمعہ 27 جون کو یو اے ای یونیورسٹی کے اولمپک سوئمنگ پول میں پیش آیا۔ عمر کو اس کی علمی قابلیت، نظم و ضبط، اور عبادات سے لگاؤ کے باعث کمیونٹی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

عمر کے والد یوسف عمر محمد، جو حادثے کے وقت ملک سے باہر تھے، نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق، ’’یہ حادثہ شام ساڑھے سات یا آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔ عمر اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ تیراکی کی تربیت کے لیے گیا تھا۔ جب سب دوست واپس جانے لگے تو عمر نے ان سے کہا: ‘مجھے پانچ منٹ اور پانی میں گزارنے دو۔’‘‘

دوستوں کے جانے کے بعد جب وہ لوٹے تو عمر کہیں نظر نہ آیا۔ کچھ دیر تلاش کے بعد وہ دوبارہ پول میں گئے تو عمر کو بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ فوری طور پر ایمبولینس اور پولیس کو بلایا گیا اور عمر کو توام اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی موت کی تصدیق کی گئی۔

والد کا کہنا ہے کہ عمر کو تیراکی میں مہارت حاصل نہیں تھی اور وہ صرف دو ماہ قبل ہی سیکھنا شروع ہوا تھا۔ ’’اسے پانی سے محبت تھی لیکن وہ ابھی سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔

اعلیٰ تعلیم کا خواب

عمر نے حال ہی میں نویں جماعت کے امتحانات دیے تھے اور نتائج کا انتظار کر رہا تھا۔ والد کے مطابق عمر کو ریاضی اور سائنسی مضامین سے خصوصی لگاؤ تھا، اور وہ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ’’وہ ہمیشہ مکمل نمبر لیتا تھا، ایک شاندار طالبعلم تھا،‘‘ والد نے بتایا۔

دین سے وابستگی اور مثالی کردار

عمر نہ صرف تعلیم میں ممتاز تھا بلکہ دین سے گہری وابستگی بھی رکھتا تھا۔ والد نے بتایا کہ عمر باقاعدگی سے پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرتا تھا اور وہاں کے نمازیوں سے گہری دوستی رکھتا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو نماز، مطالعہ اور کھیلوں کی ترغیب دیا کرتا تھا۔

خاندان کا پس منظر

عمر کی والدہ اور بہن بھائی دو سال قبل سوڈان میں جنگ کے باعث العین منتقل ہوئے تھے، جب کہ والد پہلے ہی سے یو اے ای میں مقیم تھے۔ عمر نے نئے ماحول میں تیزی سے خود کو ڈھال لیا اور اساتذہ، ہم جماعتوں اور ہمسایوں میں مقبول ہو گیا۔

یہ واقعہ نہ صرف عمر کے خاندان بلکہ وسیع تر کمیونٹی کے لیے بھی گہرے صدمے کا باعث بنا ہے۔ والد نے صبر اور اللہ کی رضا پر مکمل ایمان کے ساتھ بیٹے کی موت کو قبول کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button