
خلیج اردو
دبئی: دبئی حکومت کی جانب سے غیر قانونی پارٹیشنز اور بیڈ اسپیسز کے خلاف جاری سخت کریک ڈاؤن کے بعد شہریوں نے محفوظ، قانونی اور کم خرچ رہائش کے لیے متبادل اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، تاہم کم آمدنی والے افراد کے لیے باقاعدہ اور سستی رہائش فراہم کی جائے تاکہ وہ محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کرایوں اور محدود تنخواہوں کے باعث پارٹیشنڈ رومز یا بیڈ اسپیسز ہی ان کے لیے واحد سہارا تھے، لیکن اب ان کے خلاف سخت اقدامات کے بعد بہت سے افراد کو شہر چھوڑ کر دیگر امارات میں منتقل ہونا پڑ رہا ہے، جہاں طویل سفر اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔
تھکن، سفر اور محدود آمدنی
29 سالہ زبیر (فرضی نام)، جو ایک لاجسٹکس کمپنی میں کام کرتے ہیں، نے بتایا کہ دبئی کے المرقباط علاقے میں ان کا شیئرڈ روم کلیئر کر دیا گیا جس کے بعد وہ شارجہ منتقل ہو گئے۔ اب وہ روزانہ بس اور میٹرو کے ذریعے تین گھنٹے سفر کرتے ہیں۔ زبیر کا کہنا تھا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت صحت اور حفاظت کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن ہمیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سستی رہائش بھی چاہیے۔‘‘
زبیر نے تجویز دی کہ ہر علاقے میں بیڈ اسپیسز کے لیے واضح ہدایات اور کرایوں کا تعین ہونا چاہیے، تاکہ نہ تو کرایہ دار کا استحصال ہو اور نہ ہی غیر محفوظ رہائش کو فروغ ملے۔
خواتین بھی متاثر، متبادل رہائش کی تلاش مشکل
کراچی سے تعلق رکھنے والی انوشا، جو کَرَما کے ایک سیلون میں کام کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ پہلے 900 درہم ماہانہ میں قریبی بیڈ اسپیس میں رہتی تھیں، لیکن اب وہ دوست کے ساتھ عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ انوشا نے کہا کہ اگر کچھ عمارتوں یا علاقوں کو باقاعدہ اجازت دی جائے کہ وہ شیئرڈ رومز فراہم کریں، تو اس سے تنخواہ دار طبقے کو بہت سہولت ملے گی۔
پارلیمنٹ میں تجاویز اور قوانین
ڈلیوری رائیڈر محمد دانش، جو اب شارجہ میں 700 درہم ماہانہ کرایہ دے کر رہائش پذیر ہیں، کا کہنا تھا کہ دبئی میں ہر چیز قریبی تھی اور اب ان کا زیادہ وقت سفر میں گزر جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جگہ کے مطابق افراد کی تعداد اور کرایہ واضح کرے تاکہ نہ کرایہ دار پریشان ہو اور نہ مالک ناجائز فائدہ اٹھائے۔
سستی رہائش زونز بنانے کی تجویز
خلیج ٹائمز کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی متعدد رہائشیوں نے سستی رہائش کے لیے خصوصی زون بنانے کی تجاویز دیں۔ کئی افراد نے شیخ حمدان کالونی، ستوہ اور کَرَما جیسے علاقوں کا حوالہ دیا جہاں ماضی میں کم قیمت پر معیاری رہائش موجود تھی۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایسے زون اب تنہا کام کرنے والے افراد خصوصاً ’بیچلرز‘ کے لیے بھی بنائے جانے چاہییں۔
قانون کیا کہتا ہے؟
قانونی ماہر محمد قواسمي کے مطابق دبئی قانون کے تحت ہر فرد کے لیے کم از کم 5.0 مربع میٹر کی جگہ لازمی ہے۔ اس سے کم میں رہائش کو "اوور کراؤڈنگ” تصور کیا جاتا ہے اور یہ مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
مکینوں کی امید
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حکام ان کی زندگی کو مشکل نہیں بنانا چاہتے بلکہ محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کے لیے قانونی، محفوظ اور سستی رہائش فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔







