
خلیج اردو
دبئی میں مقیم 21 سالہ قدوس پتیوادا نے صرف پانچ افراد پر مشتمل ٹیم اور محدود بجٹ کے ساتھ ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو عالمی سطح پر GAIA بینچ مارک میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے اور اس نے OpenAI اور Genspark جیسے ٹیکنالوجی کے دیو ہیکل اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ MyASI نامی یہ AI سسٹم عام AI کی طرح سب کچھ تھوڑا تھوڑا جاننے کے بجائے ہر شعبے میں مخصوص اور ماہر AI ایجنٹس پیدا کرتا ہے جو CFO کی جگہ پر کام کر سکتے ہیں، ریسرچ سوچ سکتے ہیں، ڈیزائن تخلیق کر سکتے ہیں یا مارکیٹنگ چلا سکتے ہیں، اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
قدوس، جو پہلے امارات کی وزارت تعلیم کے لیے AI ٹیوٹر تیار کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ جب دیگر کمپنیاں اربوں خرچ کر کے ایک ایسا AI بنانے میں لگی ہیں جو سب کچھ تھوڑا بہت کرے، ہم نے وہ بنایا جس کی لوگوں کو اصل میں ضرورت ہے، ایک ایسا نظام جو ہر فرد کے لیے ذاتی نوعیت کے ماہر تخلیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف ایک تعلیمی ٹیوٹر بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس عمل میں ہمیں احساس ہوا کہ جو ٹیکنالوجی ایک بہترین استاد تخلیق کر سکتی ہے، وہ کسی بھی کام کے لیے ایک بہترین ماہر بھی تخلیق کر سکتی ہے۔
MyASI کی صلاحیتوں کی مثال دیتے ہوئے قدوس نے بتایا کہ قاہرہ میں ایک صارف نے اپنی دادی کی کہانی اور ریستوران کا تصور صرف عربی زبان میں بیان کیا اور بیس منٹ میں اسے مکمل ڈیجیٹل برانڈنگ ملی جس میں ویب سائٹ، ڈیجیٹل مینو، سوشل میڈیا ٹیمپلیٹس اور ریزرویشن سسٹم شامل تھے۔ ایک اور صارف نے محض ایک AI پرامپٹ سے ویب سائٹ تیار کی اور چھ سو ڈالر میں فروخت کر دی، وہ کام جو عام طور پر کئی ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے۔
قدوس کہتے ہیں کہ یہ صرف تیزی نہیں بلکہ اختیار دینے کی بات ہے، اب کوئی بھی فرد بغیر کسی مہارت کے اپنے تصور کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں نہیں بلکہ خود متحدہ عرب امارات کے لیے بھی ایک مثال ہے کیونکہ یہاں حکومت کی سرپرستی، سرمایہ کاری کا ماحول اور باصلاحیت افراد ایک ایسا ماڈل تشکیل دے رہے ہیں جو دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔
مایکروسافٹ کے سی ای او ساتیا نڈیلا نے ابوظبی میں MyASI کے ماڈل کو انقلابی قرار دیا، اور قدوس کہتے ہیں کہ یہ صرف آغاز ہے کیونکہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور صحت کے میدان میں ابھی صرف ایک فیصد امکانات ہی سامنے آئے ہیں۔
قدوس کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل کی سمت کا فیصلہ کن لمحہ ہے، ایک طرف وہ AI جو ہر کام میں بس ٹھیک ہو، اور دوسری طرف آپ کے لیے ذاتی طور پر تیار کردہ ماہرین پر مشتمل AI ٹیم، اور یہی وہ سمت ہے جسے وہ ترجیح دیتے ہیں۔ MyASI جلد بیٹا مرحلے سے نکل کر عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، جبکہ دنیا بھر کے ڈویلپرز اس پر کام شروع کر چکے ہیں۔
قدوس پتیوادا کا آخری پیغام یہ ہے کہ اپنی حدود کو رکاوٹ نہ سمجھیں، اصل مسائل کو حل کریں اور بس شروعات کریں، کیونکہ اب مقام کی قید نہیں رہی، ہم نے اسے امارات سے بنایا، آپ بھی کہیں سے بھی بنا سکتے ہیں۔







