
خلیج اردو
اسلام آباد – وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے، اب فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو کرنا ہے، کیونکہ کسی کو زبردستی مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے سوا پارٹی کی سینیئر قیادت مذاکرات کی حامی ہے، لیکن وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے خواہاں ہیں، جبکہ حکومت اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بانی کو اپنے طرز سیاست پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ سیاست کسی ایک شخص کے گرد نہیں گھوم سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نہ بانی کے بیٹوں کو اور نہ ہی کسی اور کو احتجاج سے روکے گی، جسے حق حاصل ہے وہ احتجاج کرے، لیکن ملک کا وجود اس وقت داؤ پر لگا ہوا ہے اور ایسے میں صرف رہائی کا رونا رونا سیاسی غیر سنجیدگی کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے بھی تین بار اسلام آباد پر حملے کر چکی ہے، لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اگر بانی سمجھتے ہیں کہ اسی راستے سے دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتے ہیں تو کوشش کر کے دیکھ لیں۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی وہی فیصلے کرتے ہیں جو ان کی ذات کے لیے بہتر محسوس ہوں، اور اب بھی وہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ نیوکلیئر بلیک میلنگ ختم ہونے کی بات محض اپنی ناکامی کو چھپانے کا طریقہ ہے۔ بھارت ہر محاذ پر ناکامی کے بعد اپنی عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہائبرڈ نظام پہلے بھی موجود تھا اور اب بھی ہے، میں نے تو صرف اس کا نام لیا ہے۔






