متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ابوظہبی میں غیرملکی نوجوان کینسر سے شفایاب، ماحولیاتی بنیادوں پر جوس شاپ کھول کر زندگی کی نئی راہ اختیار کر لی

خلیج اردو
ابوظہبی میں مقیم 27 سالہ بین اسمتھ، جنہوں نے اسی شہر میں پرورش پائی، محض 22 برس کے تھے جب ان کی زندگی کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب ڈاکٹروں نے ان کے اپینڈکس میں کینسر کی تشخیص کی، وہ بھی یونیورسٹی سے گریجویشن کے فوراً بعد۔

بین نے کہا: “یہ میری زندگی کا آغاز تھا، میرے دوست نوکریاں حاصل کر رہے تھے، اور میں ہسپتال کے بستر پر تھا۔” ایک سال سے زائد عرصے تک انہوں نے متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں مختلف علاج، سرجریاں اور انتظار کی طویل گھڑیاں گزاریں۔ وہ اس مرحلے سے تو نکل آئے، مگر ان کے پاس نہ ملازمت تھی، نہ توانائی، نہ کوئی واضح منصوبہ — لیکن ایک نیا شعور ضرور پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا، “جب آپ کو کینسر ہو جائے، تو باقی سب ثانوی ہو جاتا ہے۔ اس بیماری نے مجھے صحت، سکون اور کمیونٹی کی اہمیت کا احساس دلایا۔”

گھر سے شروع ہونے والی جدوجہد

بین نے یونیورسٹی کے دنوں میں جوس بنانے کا ہنر جو پارٹ ٹائم جاب کے ذریعے سیکھا تھا، اسی کو اپناتے ہوئے گھر پر دوستوں کے لیے جوس بنانا شروع کیا۔ یہ شوق آہستہ آہستہ ایک مکمل کاروبار میں بدل گیا، جو آج Pink and Greens کے نام سے ایک ماحول دوست جوسری کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں پلاسٹک کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا: “میں بزنس مین نہیں ہوں، میں زیادہ فیملی اور ماحول دوست انسان ہوں۔ مجھے پلاسٹک سے نفرت ہے، یہی میری پہچان ہے۔”

یہ جوسری ابوظہبی کے ADNOC اسٹیشن پر واقع ہے اور ایک مضبوط کمیونٹی سپورٹ کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔ اس کاروبار کا دل Earth Club نامی بوتل واپسی کا ایک منفرد نظام ہے، جس کے تحت صارفین خالی شیشے کی بوتلیں واپس لا کر ایک ہفتے کی مفت کافی حاصل کر سکتے ہیں۔

ماحولیاتی چیلنجز اور نئے حل

ایک ماحول دوست اسٹور چلانا آسان نہیں۔ بین نے بتایا کہ کاغذی کپوں میں جوس کی رنگت اور تہہ کا حسن چھپ جاتا ہے، جو گاہکوں کے لیے کشش کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب وہ ایسی بایوڈیگریڈیبل کپ استعمال کر رہے ہیں جو مکئی کے نشاستے سے تیار کردہ ہیں، اور دیکھنے میں پلاسٹک جیسے لگتے ہیں، مگر زمین میں جذب ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: “ہمیں احتیاط سے وضاحت کرنی پڑتی ہے کہ یہ پلاسٹک نہیں بلکہ پودوں سے تیار شدہ مواد ہے۔”

روزانہ جوس بنانے کے دوران بچنے والے پھلوں اور سبزیوں کے گودے (pulp) کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے وہ مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ کبھی وہ اسے کھاد بنا کر مقامی فارموں کو دیتے تھے، اب وہ چاہتے ہیں کہ اس کا مزید مؤثر استعمال تلاش کیا جائے۔

سمندری حیات کی بحالی کا خواب

بین کے خواب جوسری سے کہیں آگے ہیں۔ Pink and Greens اب ایک سرکاری شراکت داری کے تحت بوتل بند پانی کی ایسی نئی لائن متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کی ہر فروخت کا ایک حصہ سمندری مرجان (coral) کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت تھری ڈی پرنٹڈ ٹیرکوٹا سے تیار شدہ ٹائلیں سمندر کی تہہ میں لگائی جائیں گی تاکہ مرجان کی افزائش ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا: “جب کوئی ہماری کمپنی کا پانی پیتا ہے تو وہ سمندر کی زندگی بحال کرنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد صرف مشروبات بیچنا نہیں، بلکہ ایسی مصنوعات تیار کرنا ہے جو کچھ لوٹائیں بھی۔”

کیا یہ سوچ ان میں پہلے سے موجود تھی؟ بین نے جواب دیا:
“میں پہلے بھی ماحول کی قدر کرتا تھا، مگر کینسر کے بعد سب کچھ زیادہ فوری اور اہم لگنے لگا۔ تب احساس ہوا کہ میری زندگی کا مقصد یہی ہونا چاہیے — کچھ ایسا جو حقیقی فرق ڈالے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button