متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: شیخ محمد کا وفاقی حکومتی منصوبہ 2031 کا اعلان، خدمات کا وقت کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے "وفاقی حکومتی اسٹریٹجک منصوبہ 2031” کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے حکومتی عمل کو تیز، مؤثر اور وسائل کے بہتر استعمال سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

یہ منصوبہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی "زیادہ ہوشیار، زیادہ تیز، اور زیادہ مؤثر حکومت” کی تشکیل میں مدد دے گی۔

شیخ محمد کے مطابق، "گزشتہ دور میں کامیابی کا معیار عملدرآمد کی پیچیدگی پر مبنی ہوتا تھا، جبکہ آج کے دور میں کامیابی کا مطلب چیزوں کو آسان اور تیز تر بنانا ہے۔”

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے خدمات میں انقلاب

امارات پہلے ہی کئی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنا چکی ہے، اور اب حکومتی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے خدمات کی فراہمی کو مزید ہموار بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی طویل اور پیچیدہ طریقہ کار کی ضرورت ختم کر کے عوام تک فوری رسائی ممکن بناتی ہے۔

قانونی شعبے میں بھی AI کا استعمال مؤثر انداز میں کیا جا رہا ہے، جہاں اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ڈیٹا حاصل کر کے قوانین کے شہریوں پر اثرات کو جانچا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بہتر اور مؤثر قانون سازی میں معاون ثابت ہو گا۔

AI کو کابینہ اور دیگر اداروں میں شامل کرنے کا فیصلہ

ایک تاریخی فیصلے میں، یو اے ای نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ "نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم” کو جنوری 2026 سے کابینہ، وزارتی ترقیاتی کونسل اور تمام وفاقی اداروں و سرکاری کمپنیوں کے بورڈز میں مشاورتی رکن کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

نئی نسل کی تربیت میں AI کی شمولیت

یو اے ای ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے سرکاری اسکولوں میں کنڈرگارٹن سے ہی مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اگلی نسل کو اس اہم ٹیکنالوجی سے واقف کر کے اسے دانشمندی سے استعمال کے قابل بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button