متحدہ عرب امارات

دبئی میں ہزاروں رہائشیوں کو دوسرے پاسپورٹ کے حصول پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا

خلیج اردو
ہزاروں دبئی مکین، جنہوں نے دومنیکا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، کمبوڈیا اور مصر جیسے ممالک سے سرمایہ کاری کے بدلے شہریت (Citizenship by Investment – CBI) حاصل کی تھی، ایک غیر متوقع بحران سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد نے اپنی تمام جمع پونجی ان پاسپورٹس پر لگا دی، اس امید کے ساتھ کہ یہ عالمی سفری آزادی، ٹیکس میں سہولت اور طویل مدتی سلامتی فراہم کریں گے۔

14 جون کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت 36 ممالک کو — جن میں کئی CBI ممالک بھی شامل ہیں — 60 دن کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، جو 13 اگست 2025 کو ختم ہو گی۔ اس مدت کے دوران ان ممالک کو سخت جانچ پڑتال اور معلومات کی شراکت کے معیار پر پورا اترنا ہوگا، بصورت دیگر ویزا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یورپی یونین بھی ایسے ممالک پر شینگن ویزا فری رسائی معطل کرنے کی تیاری میں ہے جن کی نگرانی کمزور سمجھی جاتی ہے، اور اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو ستمبر میں نافذ ہو سکتا ہے۔

متاثرہ افراد میں جنوبی ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے تارکین وطن شامل

متاثرین کی بڑی تعداد جنوبی ایشیا، بالخصوص بھارت، اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے عالمی سفر اور مالیاتی آزادی کے لیے یہ راستہ اختیار کیا۔ ان میں سے ہر خاندان نے عام طور پر $115,000 سے $330,000 تک خرچ کر کے کیریبیئن یا دیگر ممالک کی شہریت حاصل کی، جنہوں نے 140 سے زائد ممالک تک رسائی کی پیشکش کی تھی۔

دبئی میں قائم Bayat Legal Services کے بانی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری ہجرت کے ماہر سام بیات کے مطابق:
“یہ ایک مکمل طوفان ہے، اور بیشتر پاسپورٹ ہولڈرز کو اس کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ اب وہ ایسی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں جن کے بعد ان کے پاسپورٹس بے اثر ہو سکتے ہیں۔”

ان کا اندازہ ہے کہ خلیجی ممالک سے 10 ہزار سے زائد CBI درخواستیں دی گئی ہیں، جن میں سے اکثریت دبئی کے باشندوں کی ہے۔ اوسطاً ہر درخواست میں تین افراد ہوتے ہیں، تو متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

قانونی و معاشی بحران

یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پانچ مشرقی کیریبیئن ممالک — اینٹیگوا و باربوڈا، دومنیکا، گریناڈا، سینٹ کٹس و نیوس اور سینٹ لوشیا — نے 2014 سے 2024 کے درمیان 100,000 سے زائد شہریتیں جاری کیں۔

بھارتی تارکینِ وطن کے لیے بحران مزید سنگین ہے، کیونکہ بھارت دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتا۔ Henley & Partners کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں 4,300 دولت مند بھارتی شہریوں نے اپنی شہریت ترک کی، جن میں سے اکثر نے کیریبیئن ممالک کی شہریت حاصل کی۔

ایک دبئی میں مقیم بھارتی شہری، جنہوں نے 2022 میں سینٹ لوشیا کا پاسپورٹ حاصل کیا، نے کہا:
“ہم نے یہ قدم اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھایا تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ سب کچھ غیر یقینی ہو گیا ہے۔”

مقامی ایجنسیاں بھی زد میں

خلیج میں کئی ایجنسیاں، جو ان پروگرامز کو کم خطرناک اور زیادہ منافع بخش ظاہر کرتی تھیں، اب دباؤ کا شکار ہیں۔ بیات کے مطابق “ایسی کئی فرمیں جو ان پاسپورٹس کے ذریعے کاروبار چلا رہی تھیں، ان کے لیے یہ انجام ثابت ہو سکتا ہے۔”

اصلاحات ناگزیر

یورپی کمیشن کی 2023 کی رپورٹ نے CBI کے تحت جاری کردہ 88,000 پاسپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جن میں شفافیت کی کمی اور ہائی رسک درخواست گزاروں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ امریکی یادداشت میں کمبوڈیا اور مصر کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف کیریبیئن تک محدود نہیں رہا۔

بیات نے متنبہ کیا:
“ظاہری اصلاحات کافی نہیں ہوں گی، ایک مرحلہ وار، اعتماد پر مبنی ماڈل ہی واحد راستہ ہے۔ بصورت دیگر، CBI کو سیکیورٹی رسک کے طور پر دیکھا جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ ویزا فری رسائی کوئی پیدائشی حق نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر دی جاتی ہے — اور یہ اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

متبادل راستے: گولڈن ویزا اور میرٹ بیسڈ پروگرامز

ایسے میں کئی متاثرہ افراد اب متبادل راستوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات کا 10 سالہ گولڈن ویزا سرفہرست ہے۔ Rayad Group Immigration Services کے رئیاد ایوب کے مطابق:
“سی بی آئی کا ماڈل اب بدل رہا ہے۔ لوگ فوری پاسپورٹ خریدنے کے بجائے مستند، پائیدار اور قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں۔”

کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میرٹ بیسڈ امیگریشن سسٹمز بھی مقبول ہو رہے ہیں، جو درخواست دہندگان کی قابلیت اور دیرپا سماجی شراکت پر زور دیتے ہیں۔

بیات کا کہنا ہے کہ:
“شہریت دینا ایک خودمختار حق ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین کا پیغام واضح ہے — یا اصلاح کرو، یا عالمی نظام سے باہر ہو جاؤ۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button