
خلیج اردو
دبئی کی جائیداد کی مارکیٹ 2025 میں ایک نئی تیزی کا سامنا کر رہی ہے، جس کی بڑی وجوہات میں نوجوان ڈیجیٹل خریداروں کی دلچسپی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شامل ہیں، جن میں دبئی میٹرو بلیو لائن کا منصوبہ سرفہرست ہے۔
دبئی میٹرو بلیو لائن کا اعلان ان علاقوں میں نئی جان ڈال رہا ہے جو پہلے جمود کا شکار تھے، جیسے دبئی سلیکن اویسس، اکیڈمک سٹی اور مردف۔ پراپرٹی کنسلٹنسی فرم اسپرنگ فیلڈ پراپرٹیز کے مطابق اب خریداروں کی توجہ انہی علاقوں پر مرکوز ہو رہی ہے جو ترقیاتی ڈھانچے سے منسلک ہیں اور ماسٹر پلاننگ کے تحت ترقی یافتہ ہیں۔
اسپرنگ فیلڈ کے سی ای او فاروق سید کا کہنا ہے کہ “سرمایہ کاروں کے اعتماد، انفراسٹرکچر کی بروقت فراہمی، اور دبئی کی طویل مدتی معاشی بنیادوں میں مکمل ہم آہنگی ہے، جس سے مارکیٹ میں مضبوطی آئی ہے۔” ان کے مطابق میٹرو بلیو لائن سے منسلک علاقوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور برطانیہ، یورپ اور بھارت کے خریدار کرنسی کے فرق سے فائدہ اٹھا کر درہم میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے خریداروں کے لیے فیصلہ سازی، فنانسنگ اور مقام کے انتخاب کو آسان بنا دیا ہے، جس سے مارکیٹ کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
پری پلان منصوبے اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی
فاروق سید کے مطابق "آف-پلان” منصوبے یعنی زیر تعمیر منصوبے اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہیں، کیونکہ ان میں لچکدار ادائیگی کے نظام اور انفراسٹرکچر سے منسلک علاقوں تک جلد رسائی کی سہولت شامل ہے، جس سے لین دین کے حجم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قیمتوں میں اضافہ، مگر مارکیٹ متوازن
اگرچہ بعض علاقوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، دبئی کی جائیداد کی مارکیٹ مجموعی طور پر متوازن ہے۔ اورلا پراپرٹیز کے سی ای او منیر الدیراوی کے مطابق، دبئی کی مضبوط معیشت، عالمی سطح پر کشش اور مؤثر اربن پلاننگ نے مارکیٹ کو مستحکم رکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ “دبئی اب بھی لندن، نیویارک اور ہانگ کانگ جیسے شہروں کے مقابلے میں نسبتاً سستی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن ہے، نہ کہ کسی قیاسی بلبلا کی جانب بڑھ رہی ہے۔”
عالمی سرمایہ کاری کی لچک
دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ اب کسی ایک خطے کے خریداروں پر انحصار نہیں کرتی۔ خلیج، یورپ، ایشیا، روس اور افریقہ سے سرمایہ کاروں کی آمد نے مارکیٹ کو وسیع اور لچکدار بنایا ہے، جس سے کسی ایک خطے کی غیر یقینی صورتحال سے تحفظ ملا ہے۔
الدیراوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی قوانین میں بہتری نے قیاس آرائیوں کو کم کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام آیا ہے۔
مستقبل کی جھلک
فاروق سید کا کہنا ہے کہ 2025 کے اختتام تک وہ دبئی میں متوازن منافع، انفراسٹرکچر سے جڑے علاقوں میں زیادہ پراپرٹی کی کھپت، اور عالمی سطح پر دبئی کو محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر تسلیم کیے جانے کی توقع رکھتے ہیں۔







