
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں جاری عالمی کیمسٹری مقابلے میں ملک کی نمائندگی کے لیے چار اماراتی طالبات پر مشتمل ٹیم منتخب کر لی گئی ہے۔ انٹرنیشنل کیمسٹری اولمپیاڈ (IChO) کے 57ویں ایڈیشن کا آغاز اتوار کے روز ہو چکا ہے، جو 14 جولائی تک جاری رہے گا، اور اس میں 90 ممالک کے طلباء شریک ہیں۔
ہر ملک سے چار طلباء اور دو رہنما اس مقابلے میں حصہ لیتے ہیں، جہاں انہیں نظریاتی اور عملی کیمسٹری کے امتحانات سے گزرنا ہوتا ہے۔
اس سال پہلی بار یہ مقابلہ متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ہو رہا ہے، اور یو اے ای کی نمائندہ ٹیم میں شیخہ الظنحانی، آمنہ عبداللہ الشحی، سلامہ احمد الیمّاحی، اور مریم عبید العبد شامل ہیں۔ ان کے اسٹیج پر آنے کے لمحے کو قومی فخر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
"پڑھائی، پڑھائی، اور صرف پڑھائی”
آمنہ الشحی نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ انہیں اس مقابلے کے لیے منتخب کیا جانا ایک حیرت انگیز لمحہ تھا، کیونکہ پہلے ان کے گریڈ کم تھے لیکن اچانک بہتر ہونے لگے، اور اسی وجہ سے انہوں نے کیمسٹری سے دلچسپی لینا شروع کی۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، "مجھے کیمسٹری اس لیے پسند آئی کیونکہ میرے نمبر اچھے آنے لگے۔”
چاروں طالبات نے بتایا کہ انہوں نے اس مقابلے کے بارے میں اپنے اساتذہ سے سنا، جنہوں نے انہیں IChO میں درخواست دینے کی ترغیب دی۔ منتخب ہونے کے بعد وہ دو ہفتے کی تربیت کے لیے روس گئیں، پھر واپس آ کر ڈیڑھ ہفتے تک مزید تیاری کی۔
"ہمارا منصوبہ ہے: پڑھائی، پڑھائی، اور صرف پڑھائی،” آمنہ الشحی نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا، "ہمیں فخر ہے کہ ہم پہلی بار متحدہ عرب امارات میں ہونے والے اولمپیاڈ میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔”
اس سال کے مقابلے میں IChO کی تاریخ کی سب سے بڑی شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اعزازات کی تقسیم کا طریقہ
مقابلے میں بہترین 12 فیصد طلباء کو گولڈ میڈل، اگلے 22 فیصد کو سلور میڈل، اور اس کے بعد آنے والے 32 فیصد کو برانز میڈل دیا جائے گا۔







