
خلیج اردو
ابوظہبی، 31 دسمبر 2023
یو اے ای نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث کئی ممالک کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کے بعد اپنا ایمرجنسی ایئرپورٹ ریسپانس پلان فعال کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے متاثرہ پروازوں اور مسافروں کی مشکلات کم کرنے کیلئے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی فیلڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور پھنسے ہوئے مسافروں کو خصوصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی ادارہ برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی تحفظ کے مطابق ملک کے ہوائی اڈوں پر سافروں کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے ایک جامع بزنس کنٹینیوٹی پلان نافذ کیا گیا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ متعلقہ تمام آپریشنل اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے پروازوں میں تعطل کو کم سے کم اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
ایمرجنسی پلان کے تحت اہل عملہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹیمیں ایئرپورٹس پر تعینات کی گئیں جو مسافروں کی آمدورفت، امیگریشن کے معاملات اور متاثرہ پروازوں کی دوبارہ شیڈولنگ کے لیے ایئرلائنز سے تعاون کر رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ تاخیر یا پروازوں کے رخ موڑنے کے باعث پھنس جانے والے مسافروں کے لیے عارضی رہائش، تازہ ترین معلومات کی فراہمی، اور لاجسٹک معاونت کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس دوران مسافروں کو مسلسل اپڈیٹس دی گئیں تاکہ وہ باخبر اور محفوظ رہیں۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے ایران، عراق، اردن، شام اور اسرائیل نے فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں پروازیں منسوخ ہوئیں یا ان کے رخ موڑے گئے۔ ان اقدامات کا دباؤ یو اے ای کے ایئرپورٹس پر بھی محسوس کیا گیا۔
ICACP نے واضح کیا کہ ایمرجنسی پروٹوکول فضائی حدود کی بندش کے فوری بعد فعال کیا گیا تاکہ فلائٹ ریراؤٹنگ اور تاخیر سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ اس پلان میں ایوی ایشن سیکٹر کے تمام اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ مل کر ضوابطی اور لاجسٹک اقدامات شامل ہیں۔
ادارے نے بتایا کہ یو اے ای ایئرپورٹس میں مسافروں کے داخلے کا طریقہ کار بدلتے حالات سے ہم آہنگ کیا گیا اور معاون ٹیموں نے مسافروں کی آئندہ سفری منصوبہ بندی میں براہِ راست رہنمائی فراہم کی۔
ICACP نے اس بحران کے دوران مسافروں کے صبر اور تعاون کو سراہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ یو اے ای مسافروں کی حفاظت، آپریشنل مہارت اور پیشگی بحران منیجمنٹ کے عزم پر قائم ہے۔ حکام کے مطابق ایمرجنسی ردعمل کو خالص اماراتی اقدار اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کی روشنی میں ترتیب دیا گیا، جس سے سروس میں کم سے کم خلل پڑا۔







