
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے ایوی ایشن سیکٹر میں اس سال مختلف شعبوں میں تقریباً 600 نئی ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ڈیلسکو پیپل کے سی ای او انتھونی مارک نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایوی ایشن میں پائلٹس اور دیگر ماہرین کی تنخواہوں میں سالانہ پانچ سے آٹھ فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس کی وجہ ایئرلائنز، ایئرپورٹس اور چارٹر کمپنیوں میں مہارت یافتہ عملے کی قلت ہے۔
انتھونی مارک نے بتایا کہ خطے میں ایئرلائنز پائلٹس اور کیبن کریو کے لیے بھرتیوں میں سرگرم ہیں، جبکہ گراؤنڈ اسٹاف، کسٹمر سروس، کارگو آپریشنز، ان فلائٹ کیٹرنگ اور دیگر معاون شعبوں میں بھی ماہر افراد کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے نفاذ اور دیکھ بھال کے لیے ٹیکنالوجی سے واقف پیشہ ور افراد کی بھی ضرورت ہوگی۔ مارکیٹ کے تخمینوں اور موجودہ وسعت کو دیکھتے ہوئے آئندہ 12 ماہ میں متحدہ عرب امارات کے ایوی ایشن سیکٹر میں 600 نئی ملازمتوں کی تخمینہ لگائی گئی ہے۔
مارک نے مزید کہا کہ دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تکمیل کے بعد یو اے ای میں ایک ملین ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ ایوی ایشن سیکٹر میں گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جس کا ثبوت ایمریٹس ایئرلائن کا ریکارڈ منافع اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا 2024 میں 92.3 ملین مسافروں کے ساتھ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل ہونا ہے۔ 2025 میں یہ تعداد 96 ملین تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
مارک کے مطابق، شعبے میں تکنیکی، گراؤنڈ آپریشنز، ایئر ٹریفک کنٹرول، اور ایئرکرافٹ مینٹیننس جیسے شعبوں میں مہارت یافتہ عملے کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث ان شعبوں میں تنخواہوں میں معتدل مگر مسلسل اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب، ابوظہبی کا زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں گزشتہ سال کے دوران 29 نئے روٹس کا اضافہ ہوا، جس سے مسافروں کی تعداد 28 فیصد بڑھ کر 29.4 ملین ہو گئی ہے۔
مارک نے کہا کہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا منصوبہ یو اے ای اور خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا، جس کی تکمیل کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بن جائے گا، جہاں سالانہ 260 ملین مسافروں کو سنبھالا جائے گا۔ اس سے اگلے دہائی میں ہزاروں نئی ملازمتیں متوقع ہیں، جو صرف ایوی ایشن ہی نہیں بلکہ ہاسپیٹیلٹی، لاجسٹکس، ریٹیل اور معاون خدمات کے شعبوں میں بھی ہوں گی۔





