( خلیج اردو دبئی) متحدہ عرب امارات چھوڑے سے پہلے بینک قرضہ کی عدم ادائیگی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے اور مجرمانہ کاروائی کے ساتھ رہائشی ویزہ ہولڈرز کو ڈیفالٹر بھی قرار دیا جاسکتا ہے ۔
اگر کوئی متحدہ عرب امارات کا رہائشی ملک چھوڑ کر جانا چاہتا ہو مگر اس کے ذمے بینک قرضہ ہو تو اسی صورت میں اس کو بینک اکاونٹ کی اتنی رقم چھوڑنی ہوگی کہ کریڈٹ کارڈ سے لیا گیاقرضہ ادا کیا جائے ۔اگر بینک اکاونٹ میں قرضہ ادا کرنے کی رقم نہ ہو تو سنٹرل بینک آف یو اے ای کے آرٹیکل 4(4) پرسنل لون ایگریمنٹ نوٹس (3692/2012) کے تحت کاروائی ہوسکتی ہے ۔
آرٹیکل 4(4) پرسنل لون ایگریمنٹ بیان کرتا ہے کہ اگر تین لگاتار قرضے کی قسطیں ادا نہ کی جائے یا 6 غیر لگاتارقسطیں ادا نہ کی جائے تو تمام قرضہ بمہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور جس بینک میں اکاونٹ رکھا ہوگا وہاں جمع سیکورٹی چیک سے قرضے کی ادائیگی کو ممکن بنایا جائیگا اور اگر سیکورٹی چیک میں رقم ناکافی ہو تو بینک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ مدعی کے خلاف مجرمانہ کاروائی کا آغاز کرے ۔
متحدہ عرب امارات میں چیک کیش نہ ہونے کی سزا بہت سخت ہے اور وفاقی قانون (3) کے آرٹیکل 401 1987 پینل کوڈ متحدہ عرب امارات کے مطابق بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔
اگر سیکورٹی چیک میں رقم 200000 درہم سے کم ہو تو جرمانہ دو ہزار سے دس ہزار درہم تک لگ سکتا ہے اور چیک باونس ہونے کی وجہ سے سفری پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔
Source: Khaleej Times







