متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: کیا مصنوعی ذہانت شریکِ حیات تلاش کر سکتی ہے؟ نئی میچ میکنگ سروس 1,099 درہم سے آغاز

خلیج اردو
روایتی طور پر خاندانوں کے درمیان بات چیت اور گھر میں ملاقاتوں سے شروع ہونے والا رشتہ تلاش کرنے کا عمل اب متحدہ عرب امارات میں لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ممکن ہو گیا ہے، جسے "الیکٹرانک مطابقتی نظام” کا نام دیا گیا ہے۔

یہ نظام افراد کی خواہشات اور ترجیحات پر مبنی تقریباً 80 سے 90 فیصد سوالات کے جوابات حاصل کر کے موزوں شریکِ حیات تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس دوران رازداری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور اماراتی اسلامی روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔

اگرچہ معاشرہ ابھی اس جدید تصور سے پوری طرح مانوس نہیں ہوا، لیکن کچھ خاندان جب اپنے سماجی دائرے میں رشتہ تلاش کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ خصوصی شادی پروگرامز کا سہارا لیتے ہیں۔ ان پروگرامز میں اکثر ذاتی معلومات، تصاویر اور فون نمبرز کا تبادلہ کیا جاتا ہے، لیکن صرف سنجیدہ افراد کے درمیان۔

ایسے غیر روایتی طریقوں پر کئی لوگ تنقید کرتے ہیں، خصوصاً خواتین، جنہیں جذباتی استحصال کا خطرہ لاحق رہتا ہے، جبکہ شادیوں میں تاخیر کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔

اسی پس منظر میں کچھ اماراتی شہریوں نے باقاعدہ لائسنس یافتہ شادی دفاتر قائم کیے ہیں، جن کے لائسنس صرف مقامی شہریوں کو جاری کیے جاتے ہیں۔

شریکی پلیٹ فارم کیسے کام کرتا ہے؟

رأس الخیمہ میں قائم "شریکی” نامی پلیٹ فارم، صارف کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے۔ ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے بعد صارفین اپنے شریکِ حیات سے متعلق ترجیحات بیان کرتے ہیں، جس کے بعد سسٹم سب سے زیادہ مطابقت رکھنے والے امیدوار کی شناخت کرتا ہے۔ دونوں فریقین کی زبانی منظوری کے بعد، وہ "الیکٹرانک منظوری” بٹن پر کلک کرتے ہیں تاکہ رسمی مراحل کا آغاز ہو سکے۔

یہ پلیٹ فارم جدید الگورتھمز کے ذریعے بہترین امیدوار چُنتا ہے اور منظوری کے بعد، دلہن کے خاندان کے گھر "قانونی ملاقات” کا بندوبست کیا جاتا ہے، تاکہ روایات اور رازداری کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا جائے۔

فیس اور خصوصیات

شریکی کی رکنیت فیس 1,099 درہم ہے، جس میں چار مطابقتی کوششیں شامل ہیں، جبکہ پروفائل کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
دفتر کے مطابق، تمام معلومات مکمل قانونی معاہدے کے تحت اور فریقین کی منظوری سے ہی شیئر کی جاتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر اور وارننگ

شریکی کے بانی، "بو نہیان”، نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ پلیٹ فارم اماراتی معاشرتی اقدار اور اسلامی اصولوں کے تحت کام کرتا ہے، اور اسے رأس الخیمہ کی اقتصادی ترقیاتی اتھارٹی اور عدالتوں کے سماجی خدماتی شعبے سے باضابطہ منظوری حاصل ہے۔

بو نہیان نے کہا کہ آج کے دور میں لوگ محدود سماجی تعلقات رکھتے ہیں، اور بہت سے افراد کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے قریبی حلقے میں کوئی رشتہ موجود ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نوجوان غیر قانونی ایپس اور فیک بروکرز کا شکار ہو جاتے ہیں، جو جعلی رشتوں کا جھانسہ دے کر مالی فراڈ کرتے ہیں۔

شارجہ پولیس نے بھی عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی شادی دفاتر سے ہوشیار رہیں، سوشل میڈیا پر دھوکہ دہی کی کوششوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں اور صرف سرکاری پلیٹ فارمز سے رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button