
خلیج اردو
24 فروری 2021
دبئی : اگر آپ کو متحدہ عرب امارات میں نئی ملازمت کی پیش کش ہوتی ہے تو ایسے میں کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کا سابقہ آجر آپ پر پابندی لگائے ؟ یہ وہ سوال تھا جو گلف نیوز کے ایک ریڈر نے اٹھایا ہے۔
ان کے مطابق مجھے کچھ قانونی مشورے کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے اپنے سابق آجر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مجھ پر پابندی ہوگی کیونکہ جب مجھے نئی ملازمت ملی تو میں نے اپنے آجر کے ساتھ کیے ہوئے لامحدود معاہدے کو توڑا۔ میں جنوری 2020 میں لعین میں واقع ایک ہیلتھ کیئر ادارے میں بطور ہوم کیئر نرس کے کام کرتا تھا۔ اب میری سابقہ کمپنی نے میرا پاسپورٹ روک رکھا ہے اور مجھ سے دو ماہ کی تنخواہ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ میں اپنا پاسپورٹ امیگریشن آفس سے وصول کرسکتا ہوں۔ کیا یہ قانونی ہے؟ کیا سابقہ کمپنی مجھ پر واقعی میں پابندی عائد کرنے کی مجاز ہے اور کیا مجھے دو مہینوں کے تنخواہ کی ادائیگی کیلئے پابند کیا جا سکتا ہے؟
گلف نیوز نے ریڈر کے اس سوال کو ایلنگر اینڈ پارٹنرز کے منیجنگ پارٹنر احمد ایلنگر کے ساتھ اٹھایا جس نے کہا ہے کہ ملازم کی مرضی کے بغیر کسی بھی ملازم کا پاسپورٹ روکنا قانون کے خلاف ہے اگر کہیں خلاف ورزی ہوتی ہے تو متحدہ عرب امارات میں ملازم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ محکمہ پولیس سے براہ راست شکایت کرے جہاں آجر کے ذریعہ پاسپورٹ روک دیا جاتا ہے اور پولیس افسران آجر یا اس کے نمائندے سے رابطہ کرکے محکمہ پولیس کا دورہ کرکے ملازم کو فوری طور پر پاسپورٹ حوالے کردیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا جائے گا۔
جہاں تک دو مہیوں کی تنخواہ کا مطالنہ ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ جب ایک ملازم اور آجر میں لامحدود معاہدہ ہوتا ہے تو ملازم کو ایک سال سے زیادہ کیلئے ہوتا ہے ۔ اگر آپ ایک مہینہ پیشگی نوٹس دیتے ہیں تو آپ کو کسی قسم کی مشکلات نہیں ہوگی ۔ ملازم کو کسی قسم کیلئے پابند نہیں کیا جا سکے گا جبکہ ملازم کو ملازمت کے اختتام پر سب اینڈ سروسز بینفٹس بھی دیئے جائیں گے۔
اس حوالے سے وزارت انسانی وسائل اور ایمتیٹائزیشن کے ملک بھر میں توافووق سنٹرز ہیں جو ملازمین اور کمپنیوں کی شکایات کا ازالہ کرتے ہیں۔ اگر یہاں سے کسی جتیجہے پر پہنچا نہ جائے تو کیس لیبر کورٹ کے حوالے کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات میں ایک ملازم 80060 پر کال کرکے اپنی شکایات درج کرا سکتا ہے۔
Source : Gulf News







