
خلیج اردو
ابوظبی: عالمی صحت ہفتے کے دوران دنیا بھر سے آئے ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپس نے ایسی ایجادات پیش کیں جو علاج، نگرانی اور بیماریوں کی روک تھام کے طریقوں کو یکسر بدل سکتی ہیں۔ ان ایجادات میں کیموتھراپی کے نقصانات کم کرنے والا میش، ڈیجیٹل جڑواں انسان، دل کے مریضوں کے لیے AI سسٹمز، سستی مصنوعی اعضا اور نوزائیدہ بچوں کے لیے سمارٹ تھرمامیٹر شامل ہیں۔
کیموتھراپی کا نیا انداز
نیویارک کی کمپنی BioSapien نے ایک ایسا بایو ڈیگریڈیبل میش تیار کیا ہے جو کیموتھراپی کی دوا براہ راست رسولی تک پہنچاتا ہے۔ اس سے جسم کے باقی حصوں پر کم اثر پڑتا ہے۔ کمپنی کے سی ٹی او جوزف بورریلو کے مطابق ابوظبی میں انسانی آزمائشیں جلد شروع کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم نے جانوروں پر تجربات میں نتائج دیکھے ہیں، اور اب انسانی تجربات کی تیاری کر رہے ہیں۔”
ڈیجیٹل جڑواں اور ذاتی صحت
کینیڈا کی کمپنی BioTwin چند قطرے خون، ویئرایبل ڈیٹا اور طبی ریکارڈز کی مدد سے ایک ایسا ڈیجیٹل جڑواں تیار کرتی ہے جو وقت کے ساتھ بیماریوں کا پیشگی پتہ لگا سکتا ہے۔ کمپنی کے نمائندے کے مطابق وہ AI کے ذریعے دو لاکھ تک بایومارکرز کی نگرانی کرتے ہیں۔
دوسری جانب eMedSupport نامی اسٹارٹ اپ دل کے مریضوں کے لیے AI کی مدد سے بہتر علاج کے فیصلے میں ڈاکٹروں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ سسٹم الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کو کلینیکل گائیڈلائنز سے ملا کر خطرات کا تجزیہ کرتا ہے اور علاج کے نتائج کی پیشگوئی بھی کرتا ہے۔
سستے مصنوعی اعضا
مصری نژاد منصور حمادہ کی کمپنی Truelimbs ایسے مصنوعی اعضا تیار کرتی ہے جو صرف $5,000 سے $10,000 میں دستیاب ہیں، جبکہ روایتی قیمتیں $50,000 سے $70,000 تک ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "ہم نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جو ہر ضرورت مند کو سستا مصنوعی عضو فراہم کر سکے۔”
بچوں کے لیے سمارٹ تھرمامیٹر
سر بیہ کی کمپنی BabyFM نے نوزائیدہ بچوں کے لیے ایک ویئرایبل تھرمامیٹر تیار کیا ہے جو مسلسل بچے کا درجہ حرارت ماپتا ہے اور ایپ کو حقیقی وقت میں آگاہ کرتا ہے۔ کمپنی کے شریک بانی ڈاکٹر ڈزیہان ابازووچ نے بتایا کہ یہ آلہ جون میں یو اے ای میں دستیاب ہوگا۔






