متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ملازمین کیلئے اصلاحات،یو اے ای: کیا تین دن کی ویک اینڈ چھٹی آپ کے لیے آ رہی ہے؟

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں تین دن کی ہفتہ وار چھٹی کا امکان بڑھتا جا رہا ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کے لیے جو ورک لائف بیلنس اور ملازمین کی فلاح کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ ایک نجی کمپنی کی مالک نتاشا ہیدرآل شا نے گزشتہ پانچ برس سے چار دن کام اور تین دن چھٹی کا نظام کامیابی سے اپنایا ہوا ہے، اور ان کے بقول اس نظام سے کمپنی کی پیداواریت بڑھی ہے، ملازمین خوش اور کمپنی مستحکم ہوئی ہے۔

نتاشا کا کہنا تھا کہ "ہم نے یہ نظام پانچ برس پہلے شروع کیا تھا اور اس دوران کمپنی نے ترقی کی اور بہترین سال گزارے۔ ایک خوش اور متوازن ٹیم براہ راست کاروباری کامیابی پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔”

یہ بیان دبئی گورنمنٹ ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ (DGHR) کی اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کو 2025 کی گرمیوں کے دوران لچکدار اوقات کار کی سہولت دی گئی ہے۔ کچھ ملازمین پورے ہفتے آٹھ گھنٹے کام کر کے تین دن کی ویک اینڈ چھٹی حاصل کریں گے جبکہ دیگر ہفتے میں سات گھنٹے کام کر کے جمعے کو آدھا دن آرام کریں گے۔

یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب ڈی جی ایچ آر نے گرمیوں میں لچکدار اوقات کار کی سہولت فراہم کی ہے۔ پائلٹ مرحلے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ اس اقدام سے پیداواریت میں اضافہ اور ملازمین کی اطمینان میں بہتری آئی، جہاں سروے میں 98 فیصد اطمینان ظاہر کیا گیا۔

ایک سرکاری ملازمہ مریم نے بتایا کہ "میرے بچوں کی اسکول کی چھٹیاں تھیں، تو یہ سہولت میرے لیے بہت فائدہ مند رہی۔ میں ان کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکی۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ اقدام دوبارہ متعارف کروایا جا رہا ہے، اور امید ہے کہ اسے گرمیوں سے آگے بھی بڑھایا جائے گا۔”

شارجہ میں 2022 سے تین دن کی ویک اینڈ کا نظام رائج ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس نظام کے نتیجے میں ملازمین کی پیداواریت میں 88 فیصد اور ملازمت سے اطمینان میں 90 فیصد اضافہ ہوا۔ صارفین کی اطمینان کی شرح بھی 94 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

شارجہ کے ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ محمد حسیف نے کہا کہ "تین دن کی ویک اینڈ نے مجھے زیادہ منظم اور مؤثر بنا دیا ہے۔ میں جمعرات کو اپنا کام اس طرح ترتیب دیتا ہوں کہ پیر کو سیدھے کام میں جُت جاؤں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "لمبی ویک اینڈ سے میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتا ہوں۔ یہ میرے لیے بہترین توازن لے کر آیا ہے اور میری رائے میں تمام کمپنیوں کو اسے آزمانا چاہیے۔”

یو اے ای کی ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی سے وابستہ ایک ملازم نے بتایا کہ وبا سے پہلے کام میں کوئی لچک نہیں تھی، مگر اب تین دن دفتر اور ڈیڑھ دن گھر سے کام کی سہولت موجود ہے۔

"مجھے اب سہولت ہے کہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد لاگ ان کروں۔ لچکدار نظام کی وجہ سے اگر ہنگامی صورت حال ہو تو میں فوری مدد کر سکتا ہوں، کیونکہ اب میرے پاس آزادی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "یہ نظام کمپنی اور ملازم دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ لوگوں کی پیداواریت بڑھی ہے اور کام بغیر رکاوٹ جاری رہتا ہے۔ میرے خیال میں تمام کمپنیوں کو لچک اور لمبی ویک اینڈ دینی چاہیے کیونکہ یہ سب کے مفاد میں ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button