
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایک یورپی شہری کو منشیات فروشوں کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے جرم میں 10 ہزار درہم جرمانہ اور دو سال کے لیے مالی لین دین پر پابندی کی سزا سنا دی گئی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم کا رابطہ میسجنگ ایپ واٹس ایپ کے ذریعے ایک منشیات ڈیلر سے ہوا، جس نے مبینہ طور پر کرسٹل میتھ اور چرس جیسی منشیات کی تصاویر بھیج کر فروخت کی پیشکش کی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم کو براہِ راست ملاقات کے بجائے ایک مخصوص بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے کی ہدایت دی گئی، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچا جا سکے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے دو مرتبہ دی گئی ہدایات کے مطابق رقم جمع کروائی تاکہ منشیات حاصل کی جا سکے۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ مالی لین دین دراصل منشیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کا حصہ تھا، جس میں آن لائن رابطے اور بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگی کا نظام استعمال کیا جا رہا تھا۔
عدالت نے شواہد اور ملزم کے اعتراف کے بعد اسے مجرم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ دو سال تک کسی بھی قسم کی رقم منتقلی، خواہ خود کرے یا کسی اور کے ذریعے، نہیں کر سکے گا جب تک کہ مرکزی بینک سے پیشگی اجازت حاصل نہ کرے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سزاؤں کا مقصد مالیاتی نظام کے غلط استعمال کو روکنا اور منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔







