
خلیج اردو
دبئی:
سال 2025 کی پہلی ششماہی میں متحدہ عرب امارات میں کرپٹو فراڈ کے ہر متاثرہ شخص سے اوسطاً 80 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 2 لاکھ 93 ہزار 600 درہم) کا نقصان ہوا، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ انکشاف معروف بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالیسز (Chainalysis) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے ایسے بڑھتے ہوئے نقصان کے پیش نظر کرپٹو کرنسی کو محفوظ رکھنے کے لیے بہترین حفاظتی طریقے اپنانے پر زور دیا ہے۔ ای سی-کونسل یونیورسٹی کے مطابق، سرمایہ کاروں کو سب سے پہلے درست کرپٹو والٹ کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، ہارڈویئر والٹ سب سے محفوظ آپشن ہے، جبکہ پیپر والٹ آف لائن اسٹوریج کا قابلِ اعتماد طریقہ ہے، جو عوامی و نجی چابیاں (keys) پر مشتمل ایک دستاویز پر مبنی ہوتا ہے۔
تحفظ کے لیے مزید مشورے میں پاس ورڈ مضبوط بنانا، دو سطحی تصدیق (2FA) کا استعمال، فشنگ حملوں سے محتاط رہنا، سافٹ ویئر اپڈیٹ رکھنا، نجی چابیاں محفوظ کرنا، بیک اپ بنانا، اسٹوریج میں تنوع لانا اور نیٹ ورک کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا فراڈ کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا، اس کے بعد چلی، بھارت، لیتھوینیا، جاپان، ایران، اسرائیل، ناروے اور جرمنی شامل ہیں۔
امارات دنیا میں کرپٹو کرنسی اپنانے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ ورونائی کی رپورٹ کے مطابق، یہاں کی تقریباً 30 فیصد آبادی کرپٹو کی مالک ہے۔ اس کے بعد ویتنام، امریکہ، ایران، فلپائن، برازیل، سعودی عرب، سنگاپور اور یوکرین کا نمبر آتا ہے۔
ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق، رہائشی دلچسپی کے لحاظ سے 45.7 اسکور کے ساتھ یو اے ای دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے، جب کہ سنگاپور پہلے اور سوئٹزرلینڈ دوسرے نمبر پر ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’متحدہ عرب امارات ایک نمایاں کرپٹو مرکز بن چکا ہے، جو سازگار ٹیکس پالیسیوں اور مضبوط اقتصادی استحکام کی بدولت سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہے۔‘‘
نیو ورلڈ ویلتھ کے ریسرچ ہیڈ اینڈریو اموئلز کے مطابق، جون 2024 تک دبئی میں 6,500 ٹیکنالوجی ملینئرز موجود ہیں، جن میں اکثریت فِن ٹیک، کرپٹو اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح، یعنی 120,000 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اتوار کی صبح یہ 117,860 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا جبکہ کرپٹو مارکیٹ کا کل سرمایہ 3.87 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔
چین اینالیسز کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک عالمی سطح پر کرپٹو خدمات سے 2.17 ارب ڈالر سے زائد چرا لیے گئے، جو کہ پورے 2024 سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں سب سے بڑا واقعہ شمالی کوریا کی جانب سے بائی بٹ (ByBit) ایکسچینج پر کیا گیا 1.5 ارب ڈالر کا سائبر حملہ ہے، جو تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک قرار دیا گیا ہے۔
علاقائی طور پر، مشرقی یورپ، مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ (MENA)، اور جنوبی و وسطی ایشیا و اوشیانا میں متاثرین کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شمالی امریکا بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کی چوری میں سرفہرست رہا، جب کہ یورپ ایتھریم اور اسٹیبل کوائنز کی چوری میں سب سے آگے رہا۔
آسیہ پیسیفک خطہ مجموعی طور پر چوری ہونے والے بٹ کوائن میں دوسرا، اور ایتھریم میں تیسرا بڑا علاقہ رہا۔ سی ایس اے او خطہ آلٹ کوائن اور اسٹیبل کوائن چوری کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ سب صحارا افریقہ سب سے کم مالی نقصان والا خطہ رہا، جو غالباً اس خطے کی کم دولت کو ظاہر کرتا ہے نہ کہ کم متاثرہ افراد کی شرح کو۔







