
خلیج اردو
دبئی: عید کی خوشیوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں والدین بچوں کی مالی تربیت کے لیے ایک نئے رجحان کو اپنا رہے ہیں، جس کے تحت وہ بچوں کو ملنے والی عیدی کو علیحدہ بینک اکاؤنٹس میں محفوظ کر رہے ہیں۔
عیدی ایک محبوب روایت ہے جس میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ پر بچوں کو رشتہ داروں کی جانب سے تحائف، خصوصاً نقدی، دی جاتی ہے۔ تاہم اب بہت سے والدین اس روایت کو بچوں کو بچت کی اہمیت سکھانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
امناء عبدالعزیز النعیمی، دو سالہ عائشہ کی والدہ، نے "خلیج ٹائمز” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر سال اپنی بیٹی کو ملنے والی تقریباً 4,000 سے 5,000 درہم کی عیدی فوراً اس کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتی ہیں۔ ان کے بقول: "میں اس کی تمام رقم جمع کر رہی ہوں تاکہ جب وہ بڑی ہو تو سمجھداری سے خرچ کر سکے۔”
انہوں نے کہا کہ بچوں کے پیسے والدین کے اپنے پیسوں سے الگ رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی گڑبڑ نہ ہو اور بچوں کا حصہ محفوظ رہے۔
فاطمہ التیناجی، تین بچوں کی ماں، نے اپنے بچوں محمد (10 سال)، میرا (6 سال) اور غانم (2 سال) کے لیے علیحدہ اکاؤنٹس کھلوائے ہیں جہاں وہ نہ صرف ماہانہ بچت بلکہ عید کی عیدی بھی جمع کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "ہر مہینے میں ہر بچے کے اکاؤنٹ میں 100 درہم منتقل کرتی ہوں۔ عید کے موقع پر انہیں 300 سے 400 درہم ملتے ہیں، جس میں سے 25 فیصد وہ خرچ کرتے ہیں اور باقی بچت میں ڈال دیا جاتا ہے۔”
اسی طرح ام حاشر، جو اپنے بچوں حاشر (7 سال) اور المیث (5 سال) کے لیے اکاؤنٹس کھلوا چکی ہیں، کہتی ہیں کہ عیدی صرف والدین یا دادا دادی کی طرف سے نہیں، بلکہ خاندان اور محلے کے کئی افراد سے آتی ہے، اس لیے ایک باقاعدہ نظام ضروری ہے۔
"بینک اکاؤنٹ کی بدولت ہم جان پاتے ہیں کہ بچوں کو کتنی رقم ملی، کتنی بچت ہوئی اور کتنی خرچ کی گئی۔ ہم عید کے فوراً بعد حساب کتاب کر لیتے ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور بچے سیکھ سکیں کہ پیسے کیسے سنبھالنے ہیں۔”
والدین اس بات پر متفق ہیں کہ بچپن میں اگر مالی نظم و ضبط سکھایا جائے تو بچے مستقبل میں ذمہ دارانہ فیصلے کر سکتے ہیں۔ عیدی جیسے سادہ موقع سے آغاز کرنا ایک مثبت قدم ہے جو بچوں کو بچت اور خرچ کے توازن کی تربیت دیتا ہے۔







