
خلیج اردو
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک صدارتی اعلامیہ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں پر مکمل سفری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے خدشات کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
سفری پابندی کا اطلاق افغانستان، میانمار، چاڈ، کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں پر مکمل طور پر ہوگا، جنہیں اب امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جبکہ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا کے شہریوں پر جزوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ان ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبگیل جیکسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’صدر ٹرمپ اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ وہ امریکیوں کو ان خطرناک غیر ملکی عناصر سے تحفظ فراہم کریں گے جو ملک آ کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکمل سفری پابندی کے شکار ممالک ’’سکریننگ اور ویٹنگ کے لحاظ سے ناکافی پائے گئے ہیں اور ان سے امریکہ کو بلند ترین سطح کا خطرہ لاحق ہے۔‘‘
یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں سات مسلم اکثریتی ممالک پر بھی سفری پابندی عائد کی تھی، جو مختلف قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد 2018 میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھی تھی۔ تاہم ان کے جانشین صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس پالیسی کو ختم کر دیا تھا اور اسے ’’قوم کے ضمیر پر ایک دھبہ‘‘ قرار دیا تھا۔







