
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات قریب آتے ہی نجی شعبے کے ملازمین میں پیر کے روز اضافی چھٹی لینے کا رجحان بڑھ گیا ہے تاکہ سرکاری چھٹیوں کو ملا کر مسلسل 9 روزہ تعطیلات حاصل کی جا سکیں۔
رپورٹس کے مطابق نجی شعبے کے ملازمین کو منگل 26 مئی سے اتوار 31 مئی تک چھٹی ملے گی، جبکہ سرکاری ملازمین کو پیر 25 مئی کی اضافی تعطیل کے باعث 23 مئی سے 31 مئی تک 9 دن کی مسلسل چھٹیاں میسر ہوں گی۔
ہیومن ریسورس ماہرین اور قانونی مشیروں کے مطابق نجی شعبے کے ملازمین اضافی چھٹی کی درخواست تو دے سکتے ہیں، تاہم منظوری کا انحصار کمپنی پالیسی، کاروباری ضروریات اور عملے کی دستیابی پر ہوگا۔
یو اے ای میں قائم ایک ڈچ میرین سروسز کمپنی کی گلوبل ایچ آر بزنس پارٹنر سومیا شیٹی کے مطابق کسی بھی اضافی چھٹی کی منظوری مکمل طور پر آجر کی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بغیر منظوری غیرحاضری کو غیر مجاز سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں، ہوائی اڈوں، ہوٹلوں، لاجسٹکس، فوڈ ڈیلیوری اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں میں تعطیلات کے دوران بھی سروسز جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے ان اداروں میں چھٹیوں کی منظوری زیادہ احتیاط سے دی جاتی ہے۔
قانونی ماہر P. A. Hakkim Ottapalam کے مطابق یو اے ای لیبر قانون ملازمین کو چھٹی کی درخواست دینے کا حق دیتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ کمپنی انتظامیہ ہی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین کو اضافی تعطیلات کی منصوبہ بندی سے قبل اپنے لیبر کنٹریکٹ، کمپنی پالیسی اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ کئی اداروں میں مسلسل آپریشن برقرار رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کمپنیاں پیر کی اضافی چھٹی منظور کر لیں تو دبئی میں ملازمین مسلسل 9 دن جبکہ شارجہ میں بعض افراد 10 دن تک تعطیلات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
متعدد ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ طویل عید تعطیلات کو بیرونِ ملک سفر کے بجائے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے، آرام کرنے اور مقامی سیاحت کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان سے حال ہی میں اپنے اہلخانہ کو یو اے ای منتقل کرنے والے سید عباس کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل کام کر رہے تھے، اس لیے یہ تعطیلات خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین موقع ہیں۔
اسی طرح دبئی میں مقیم فلپائنی مارکیٹنگ ایگزیکٹو ماریا نوارو نے کہا کہ وہ اضافی چھٹی لے کر بچوں اور شوہر کے ساتھ وقت گزارنے کے ساتھ اپنی بیٹی کی تعلیم پر بھی توجہ دینا چاہتی ہیں۔







