
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مکان مالکان قانونی طور پر کسی بھی درخواست گزار کو گھر کرائے پر دینے کے پابند نہیں، اور وہ کم کریڈٹ اسکور یا مالی خطرات کی بنیاد پر کرایہ دار کو مسترد کر سکتے ہیں۔
یہ وضاحت قانونی ماہر Asma Siddiqui نے اس وقت کی جب Etihad Credit Bureau نے حال ہی میں نیا “ٹیننٹ اسکریننگ” سسٹم متعارف کرایا، جس کے ذریعے نجی مکان مالکان ممکنہ کرایہ داروں کا کریڈٹ اسکور دیکھ سکتے ہیں۔
ماہر قانون کے مطابق یو اے ای کے کرایہ داری قوانین اس بات کو ریگولیٹ نہیں کرتے کہ مالک مکان کس بنیاد پر کرایہ دار کا انتخاب کرے، اس لیے مالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مالی خطرے یا کم کریڈٹ اسکور رکھنے والے درخواست گزار کو مسترد کر دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کریڈٹ اسکور صرف اسی صورت میں شیئر کیا جا سکتا ہے جب کرایہ دار UAE PASS کے ذریعے منظوری دے، جبکہ کرایہ دار قانونی طور پر اپنا کریڈٹ اسکور شیئر کرنے کا پابند نہیں۔
اسما صدیقی کے مطابق نیا سسٹم کسی نئے قانون کے تحت متعارف نہیں کرایا گیا بلکہ موجودہ قانونی فریم ورک کے مطابق کام کر رہا ہے، جس کے تحت غیر مالیاتی ادارے بھی فرد کی اجازت سے کریڈٹ رپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کریڈٹ اسکور کسی فرد کی مالی ساکھ اور قرض یا واجبات ادا کرنے کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔ اچھا کریڈٹ اسکور ذاتی قرض، کریڈٹ کارڈ اور دیگر مالی سہولیات کے حصول میں آسانی پیدا کرتا ہے جبکہ کم شرح سود حاصل کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
ادائیگیوں میں تاخیر، متعدد قرضے اور کریڈٹ کارڈز کریڈٹ اسکور کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بجلی، پانی، کریڈٹ کارڈ بل اور قرضوں کی بروقت ادائیگی اسکور بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
Etihad Credit Bureau کے مطابق یو اے ای میں کریڈٹ اسکور 10.5 درہم جبکہ مکمل کریڈٹ رپورٹ 84 درہم میں حاصل کی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہر نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کرایہ داری معاہدہ ہو چکا ہو تو صرف کریڈٹ اسکور کم ہونے کی بنیاد پر کرایہ دار کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ یو اے ای قوانین کے تحت بے دخلی صرف مخصوص وجوہات مثلاً کرایہ ادا نہ کرنے، غیر قانونی استعمال، بغیر اجازت سب لیز یا مالک کی ذاتی ضرورت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق نیا ٹیننٹ اسکریننگ سسٹم یو اے ای میں کرایہ داری کے شعبے میں شفافیت بڑھانے کی کوشش ہے، تاہم اس سے کرایہ داروں کے حقوق یا موجودہ قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔







