
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ انسانی وسائل و اماراتی امور نے ملازمت تبدیل کرنے سے متعلق قواعد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین اب مخصوص قانونی تقاضے پورے کر کے آسانی سے نئی ملازمت اختیار کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق وفاقی قانون نمبر 33 سنہ 2021 کے تحت پرانے لیبر بین سسٹم میں بڑی حد تک نرمی کر دی گئی ہے اور بیشتر صورتوں میں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ یعنی این او سی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملازم معاہدہ ختم ہونے، باہمی رضامندی سے ملازمت چھوڑنے یا نوٹس پیریڈ مکمل کرنے کے بعد نئی کمپنی میں منتقل ہو سکتا ہے، جبکہ ورک پرمٹ اور رہائشی ویزا کی منسوخی بھی ضروری ہوگی۔
وزارت نے خبردار کیا کہ بغیر اجازت غیر حاضری، معاہدے کی خلاف ورزی، پروبیشن کے دوران قواعد نہ ماننے یا لیبر قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایک سالہ ورک پرمٹ پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ملازمت چھوڑنے کے بعد ملازمین کو قانونی گریس پیریڈ بھی دیا جاتا ہے، جس کے دوران وہ نئی ملازمت تلاش، ویزا ٹرانسفر یا رہائشی حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ملازمین کو غیر قانونی ہڑتالوں یا اچانک کام بند کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ایسے اقدامات جرمانے، قید اور ملک بدری کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملازمت کے معاہدوں کو فل ٹائم، پارٹ ٹائم، ریموٹ، عارضی یا فلیکسی ورک ماڈلز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق اس پر متفق ہوں۔







