متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات دنیا کا نیا سرمایہ و دولت کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات تیزی سے ایک عالمی دولت اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں کاروبار دوست ماحول، مضبوط ضوابط، اور سیاسی استحکام نے اسے دنیا بھر کے مالدار افراد کے لیے پرکشش منزل بنا دیا ہے۔

کیپ جیمنی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات، سنگاپور، ہانگ کانگ اور سعودی عرب نے سرمایہ کاری کے نئے عالمی مراکز کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر لی ہے۔ ان ممالک نے مؤثر ٹیکس پالیسیوں، مالیاتی انفراسٹرکچر اور سیاسی استحکام کا فائدہ اٹھا کر عالمی دولت کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئی نسل کے مالدار افراد اب سرمایہ کاری کو تنوع بخشنے کے لیے صرف لندن، سوئٹزرلینڈ یا نیویارک تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ یو اے ای جیسے ابھرتے ہوئے مراکز کی جانب بھی تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں۔

ریکارڈ ہجرت اور دولت کا بہاؤ
وبائی دور کے بعد یو اے ای میں دنیا بھر سے مالدار افراد کی ہجرت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق، 2024 میں 7,200، 2023 میں 4,700 اور 2022 میں 5,200 ملینئرز یو اے ای منتقل ہوئے، جنہیں زیرو انکم ٹیکس، تحفظ، جائیداد میں زیادہ منافع اور معیاری طرزِ زندگی نے راغب کیا۔

2024 کے پہلے نصف میں صرف ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 6,500 ملینئرز یو اے ای میں مقیم ہوئے۔ کل 10 ملین کی آبادی والے اس ملک میں 130,500 مالدار افراد مقیم ہیں، جو اسے دنیا کی چودھویں بڑی دولت کی منڈی بناتا ہے۔

عالمی ویلتھ مینجمنٹ کا مرکز
یو اے ای اور سعودی عرب مشرق وسطیٰ کو عالمی ویلتھ مینجمنٹ کا مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب ایک ہی ملک پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی دولت کو مختلف مالیاتی مراکز میں تقسیم کر کے خطرات کو کم اور مواقع کو زیادہ کر رہے ہیں۔

2023 میں یو اے ای کی مجموعی دولت 10 فیصد اضافے کے ساتھ 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو خطے اور عالمی سطح سے زیادہ رفتار سے بڑھی۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے مطابق، مشرق وسطیٰ و افریقہ میں یہ اضافہ 8 فیصد رہا۔

متحدہ عرب امارات میں 81 فیصد مالیاتی دولت قابلِ سرمایہ کاری ہے، جو 2028 تک 83 فیصد ہونے کی توقع ہے، جس سے ویلتھ مینجمنٹ فرموں کے لیے مواقع مزید بڑھیں گے۔

ویلتھ مینجمنٹ کمپنیوں کی آمد
بڑھتے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی ملکی اور غیر ملکی ویلتھ مینجمنٹ فرمز نے دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) اور ابوظہبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں۔

DIFC میں اس وقت 450 ارب ڈالر کی نجی دولت کا نظم کیا جا رہا ہے جبکہ دبئی کے محلِ وقوع کی بدولت ایک گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر 3 ٹریلین ڈالر کی نجی دولت دستیاب ہے۔

گزشتہ سال دنیا کے سب سے بڑے اثاثہ منیجر بلیک راک کو ابوظہبی میں کام کرنے کا لائسنس دیا گیا، جب کہ روچلڈ اینڈ کمپنی نے دبئی میں نیا دفتر کھولا۔ اسی طرح، ADGM نے PGIM، Prudential Financial اور Nuveen کو لائسنس جاری کیے۔

2025 کی پہلی سہ ماہی میں ADGM کے زیرانتظام اثاثہ جات میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ اس وقت وہاں 119 منیجرز 184 فنڈز کا نظم سنبھالے ہوئے ہیں۔

نئی نسل کے ملینئرز اور متبادل سرمایہ کاری
کیپ جیمنی کی تحقیق کے مطابق، 88 فیصد مالی مشیران کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے سرمایہ کار پرانے سرمایہ کاروں کی نسبت زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں اور وہ پرائیویٹ ایکویٹی اور کرپٹو کرنسی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

توقع ہے کہ دولت کی منتقلی کے بعد نئی نسل کے افراد اپنے مشیروں کو تبدیل کریں گے، اس لیے ڈیجیٹل سہولیات، مشیر کی عمر، اور جدید سروسز کلیدی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

تمینوس یو اے ای کے ویلتھ مینجمنٹ ماہر ایرک میلر کے مطابق، ویلتھ مینجمنٹ اداروں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز، ڈیجیٹل چینلز اور ذاتی نوعیت کی خدمات کے ذریعے اپنے طریقہ کار کو جدید بنانا ہوگا تاکہ نئی نسل کے عالمی سطح پر متحرک کلائنٹس کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

صنعتی ماہرین کے مطابق، اب کئی فیملی آفسز — خصوصاً دوسری اور تیسری نسل کے زیرِ قیادت — کرپٹو بزنسز میں سرمایہ کاری کو ایک باقاعدہ اور اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف قیاس آرائی کے طور پر۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button