
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ماہرین ذہنی صحت نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی کو ‘تھراپسٹ’ سمجھنا نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کے علاج میں تاخیر کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ٹولز فوری، نجی اور بظاہر مددگار محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
27 سالہ سارا (فرضی نام) جو چیٹ جی پی ٹی کو پہلے کام کے لیے استعمال کرتی تھیں، آہستہ آہستہ اسے ذاتی اور جذباتی مسائل میں بھی استعمال کرنے لگیں۔ انہوں نے بتایا، "مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ میری بات سمجھتا ہے، میرے جذبات کی تصدیق کرتا ہے اور مجھے تسلی دیتا ہے۔ یہ ایک کوچ کی طرح بن گیا تھا جو مجھے خود کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔”
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس رجحان میں کئی پوشیدہ خطرات ہیں۔ دبئی میں حکینی مینٹل ہیلتھ کلینک کے کلینیکل نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر الیگزاندر ماچادو کے مطابق، "یہ حیران کن نہیں کہ نوجوان اس قسم کے پلیٹ فارمز کی طرف مائل ہو رہے ہیں کیونکہ یہ آسان، گمنام اور ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔”
میڈ کیئر رائل اسپیشلٹی ہسپتال القصیص کے ماہر نفسیات ڈاکٹر ولید العمر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب چیٹ بوٹس خود کو تھراپسٹ ظاہر کرتے ہیں۔ شروع میں تو صارف کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک بوٹ سے بات کر رہا ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ اسے ایک حقیقی انسان یا ماہر سمجھنے لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ چیٹ بوٹس ذہنی امراض کی تشخیص یا علاج کے مجاز نہیں ہوتے، اس لیے وہ وقت پر انسانوں کی مدد کی طرف رہنمائی نہیں کر سکتے، اور اس سے حقیقی علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر الیگزاندر نے ایسے کئی واقعات کی نشاندہی کی جن میں اے آئی پر انحصار نقصان دہ ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا، "بیلجیم میں ایک شخص نے بوٹ کے اثر میں آ کر خودکشی کر لی جبکہ برطانیہ میں ایک نوجوان لڑکے نے ملکہ کو قتل کرنے کی کوشش کی، اس کے پیچھے بھی اے آئی کا اثر تھا۔”
تاہم ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ اے آئی کے کچھ مثبت پہلو بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ جذباتی دباؤ کے لمحوں میں فوری مدد کی دستیابی، خاص طور پر رات کے اوقات میں، جب تنہائی اور اضطراب زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ولید کا کہنا تھا کہ، "ایسے نوجوان جو آن ڈیمانڈ سروسز کے عادی ہو چکے ہیں، ان کے لیے اے آئی ایک غیر جانبدار اور محفوظ سہارا محسوس ہو سکتا ہے۔”
اختتاماً، ڈاکٹر الیگزاندر نے کہا، "اے آئی انسان کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ یہ صرف ایک ٹول ہے، ایک جیب میں موجود دوست کی طرح، جسے سنبھال کر استعمال کرنا ضروری ہے۔







