
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ خواتین میں 30 کی دہائی میں ہی مینوپاز (ماہواری ختم ہونے کے عمل) کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا عام ہوتا جا رہا ہے۔ دبئی اور دیگر شہری علاقوں میں تیز رفتار طرزِ زندگی، دباؤ، نیند کی کمی اور غیر متوازن خوراک اس رجحان کو بڑھا رہی ہے۔
ایمیریٹس میڈیکل ایسوسی ایشن کے مینوپاز چیپٹر کی صدر ڈاکٹر خلود الاوادی کے مطابق، بہت سی خواتین اپنی 30 کی آخری یا 40 کی ابتدائی عمر میں "پیری مینوپاز” کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں، لیکن انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔ یہ وہ عبوری مرحلہ ہے جو مینوپاز سے تقریباً دس سال پہلے شروع ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر خلود کے مطابق، "کچھ خواتین اپنی 30 کی دہائی کے آخر میں ہارمونز میں تبدیلیاں محسوس کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ماہواری کا غیر باقاعدہ ہونا، نیند کے مسائل، چڑچڑاپن، بےچینی، اور معمولی باتوں پر حساسیت میں اضافہ—یہ سب ابتدائی علامات ہیں۔” انہوں نے کہا کہ توانائی کی کمی یا جنسی دلچسپی میں کمی بھی انہی ہارمونل تبدیلیوں کی علامت ہے، جنہیں اکثر خواتین صرف دباؤ یا عمر بڑھنے کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری طرزِ زندگی ان علامات کو مزید شدت دے دیتا ہے۔ ڈاکٹر خلود کے مطابق، "مسلسل ذہنی دباؤ کارٹیسول کی سطح بڑھاتا ہے، جس سے ہاٹ فلیشز، موڈ میں تبدیلیاں اور نیند کی خرابی جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ میٹھے اور کیفین والے مشروبات کا زیادہ استعمال چڑچڑاپن کو بڑھاتا ہے، جبکہ ورزش کی کمی ہڈیوں اور عضلات کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ معمولات میں توازن پیدا کرنا بڑی تبدیلیوں سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ "متوازن خوراک، پانی کا مناسب استعمال، اور روزانہ تھوڑی بہت جسمانی سرگرمی، جیسے تیز قدمی، علامات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔”
ڈاکٹر خلود نے زور دیا کہ کام کی جگہوں پر مینوپاز کے بارے میں گفتگو کو معمول بنانا چاہیے تاکہ خواتین کو سہولت ملے جب ان کی کارکردگی یا نیند متاثر ہو۔ ان کے مطابق، "جب منیجرز ہمدردی کے ساتھ ردعمل دینا سیکھتے ہیں، تو باصلاحیت خواتین کو برقرار رکھنا آسان ہوتا ہے۔ اس طرح کی آگاہی شرم اور تردد کو ختم کر کے خواتین کو بروقت مدد حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔”
خاندانی معالج ڈاکٹر تمارا الداوری نے بتایا کہ بہت سی نوجوان خواتین جوڑوں میں اکڑاؤ، خشک جلد یا اداسی جیسے مسائل کو بڑھاپے کا اثر سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں، حالانکہ یہ ابتدائی اشارے ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر سارہ شریف نے کہا کہ "روک تھام کا آغاز دہائیوں پہلے ہوتا ہے۔” ان کے مطابق، خواتین کو اپنی 20 اور 30 کی دہائی سے ہی ماہواری کے معمولات پر نظر رکھنی چاہیے۔ "مینوپاز کوئی ایسی چیز نہیں جس سے بھاگا جائے بلکہ ایک قدرتی مرحلہ ہے جس کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے۔”
ماہرین نے نوجوان خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر معمولی تھکن، نیند میں خلل، موڈ میں تبدیلی یا جسمانی فرق کو معمولی نہ سمجھیں اور فوراً معالج سے رجوع کریں۔







