
خلیج اردو
شارجہ: امریکن یونیورسٹی آف شارجہ کے طلبہ نے ایک انقلابی منصوبے کے تحت سورج کی روشنی اور سمندری پانی کو ہائیڈروجن ایندھن میں بدلنے کا تجربہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ کلاس روم سیکھنے کو عملی دنیا کے مسائل سے جوڑتا ہے، جہاں اساتذہ اور طلبہ سولر پاورڈ الیکٹرولیسس پر کام کر رہے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے پانی کو سورج کی توانائی استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پیدا ہونے والا ہائیڈروجن مستقبل میں گاڑیوں، بجلی گھروں یا گھریلو استعمال کے لیے محفوظ کر کے بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اس سے ماحولیاتی آلودگی نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای اپنی سال بھر کی دھوپ اور سمندری پانی کی دستیابی کے باعث اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے بہترین مقام ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف فوسل فیول پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ خطے میں پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی حل کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
امریکن یونیورسٹی آف شارجہ کی پروفیسر ڈاکٹر امانی العثمان نے کہا کہ سمندری پانی کا الیکٹرولیسس اس خطے میں سبز ہائیڈروجن کی تیاری کا ایک پائیدار راستہ ہے جو پانی کی قلت اور توانائی کی عالمی تبدیلی دونوں چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی لاگت زیادہ ضرور ہے لیکن طویل مدتی فائدے نمایاں ہیں کیونکہ یہ فوسل فیول پر انحصار کم کرتا ہے اور کاربن اخراج کو ختم کرتا ہے۔
پراجیکٹ میں شریک طلبہ نے بتایا کہ یہ تحقیق محض تعلیمی مشق نہیں بلکہ مستقبل کے مسائل کے حل کے لیے ایک عملی قدم ہے۔ انہوں نے مختلف ہائیڈروجن پیداوار کے طریقوں کا مطالعہ کیا اور سیمولیشن کے ذریعے اس کے حقیقی استعمالات کو جانچا، جن میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کی سالانہ ہائیڈروجن پیداوار بھی شامل ہے۔
انڈسٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے طلبہ کی قیادت میں چلنے والے منصوبے توانائی کے مستقبل کی سمت متعین کرنے اور عالمی سطح پر کاربن میں کمی کے اہداف میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔







