
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں نومبر کے لیے فیول قیمتوں کا اعلان جلد متوقع ہے اور شہری اکتوبر میں اضافے کے بعد قیمتوں میں کمی کی امید کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور جیو پولیٹیکل کشیدگی میں نرمی سے ایندھن کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے آثار پیدا ہوگئے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عالمی مارکیٹ کے آئندہ چند دنوں کے رجحانات پر منحصر ہوگا۔
اکتوبر میں اضافہ
اکتوبر میں یو اے ای میں پٹرول کی قیمتوں میں 7 سے 8 فلس تک اضافہ ہوا تھا۔ سپر 98 پٹرول 2.77 درہم فی لٹر، اسپیشل 95 پٹرول 2.66 درہم، ای پلس 91 پٹرول 2.58 درہم، جبکہ ڈیزل 2.66 سے بڑھ کر 2.71 درہم فی لٹر ہوگیا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے 2015 میں فیول پرائس ریگولیشن ختم کی تھی جس کے بعد سے ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔ جب خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو فیول قیمتیں بڑھتی ہیں اور جب سستا ہوتا ہے تو کمی کردی جاتی ہے۔
عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ
گزشتہ دنوں برینٹ کروڈ 66 ڈالر فی بیرل کے قریب تجارت کرتا رہا، جو ایک ہی دن میں 5.4 فیصد بڑھا، اس اضافے کی وجہ امریکی پابندیاں تھیں جو روس کی بڑی آئل کمپنیوں پر عائد کی گئیں۔
یہ اضافہ جون کے بعد سے سب سے بڑی ہفتہ وار نمو ثابت ہوا۔ کویت کے وزیر تیل نے عندیہ دیا کہ اگر طلب بڑھی تو اوپیک پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں قیمتوں پر دباؤ آسکتا ہے۔
ماہِ اکتوبر کے آغاز میں تاجروں کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی امید تھی کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی طلب سے زیادہ تھی، مگر نئی امریکی پابندیوں نے یہ پیش گوئی بدل دی۔







