متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سونے کی قیمتوں میں 2025 کے دوران 60 فیصد سے زائد اضافہ، سرمایہ کاری تقریباً دگنی ہو گئی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 2025 کے دوران سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث کئی رہائشیوں کی سرمایہ کاری کی مالیت تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ ابوظبی کی رہائشی زیبہ محمد نے دسمبر 2024 کے آخری ہفتے میں 10 گرام سونا خریدا تھا، جس کی قیمت ایک سال بعد نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے بالیاں اور دو کنگن مجموعی طور پر 10 گرام سونے کے خریدے تھے، اس وقت فی گرام قیمت تقریباً 295 درہم تھی اور میکنگ چارجز سمیت مجموعی لاگت تین ہزار درہم سے کچھ زائد بنی، جبکہ آج ان زیورات کی قیمت تقریباً پانچ ہزار درہم تک پہنچ چکی ہے۔
زیبہ محمد کا کہنا ہے کہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کو آسان اور قابلِ رسائی سمجھتی ہیں اور اسی لیے دوستوں اور اہلِ خانہ کو بھی اس کی ترغیب دیتی ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی بہن کے بچوں کو سونے کے سکے بطور تحفہ دیے۔
سیکسو بینک کے کموڈیٹی اسٹریٹجی کے سربراہ اولے ہینسن کے مطابق رواں سال کے دوران سونے کی قیمتوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی اضافہ 110 فیصد سے بھی زیادہ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تیز رفتار اضافے نے بہت سوں کو حیران کیا، تاہم اس ریلی کی بنیادیں کئی سال پہلے رکھ دی گئی تھیں اور یہ عالمی معاشی، جغرافیائی سیاسی اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2025 کو 24 قیراط سونے کی قیمت 318 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط کی قیمت 294.5 درہم تھی، اسی طرح 21 قیراط اور 18 قیراط سونا بالترتیب 285 اور 244.5 درہم فی گرام میں دستیاب تھا۔ اس کے مقابلے میں اب سونا ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے، جہاں 24 قیراط سونا 540 درہم، 22 قیراط 500 درہم، 21 قیراط 479.5 درہم، 18 قیراط 411 درہم اور 14 قیراط 320.5 درہم فی گرام تک پہنچ گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے نے پہلی بار اور کم پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھی مارکیٹ کی جانب متوجہ کیا ہے۔ یو اے ای میں مقیم ثنا اشرف نے اس سال مالی نظم و ضبط کے عزم کے تحت ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری شروع کی، جن میں سونا اور چاندی بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق چند ہی مہینوں میں ان کا پورٹ فولیو تقریباً 30 فیصد بڑھ چکا ہے۔
دبئی کے رہائشی اشرف خان نے بھی اس سال کے آغاز سے ہر ماہ سونے میں سرمایہ کاری کو معمول بنا لیا ہے۔ وہ ایک جیولری اسکیم کے تحت سال بھر ادائیگی کر کے بغیر میکنگ چارجز زیورات خریدتے ہیں، جسے وہ سرمایہ کاری اور خاندانی خوشی دونوں کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔
ماہرین اگرچہ مجموعی طور پر پُرامید ہیں، تاہم 2026 کے حوالے سے کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ اولے ہینسن کے مطابق 2025 میں مضبوط اضافے کے باعث جنوری میں بڑی کموڈیٹی انڈیکسز کی ری بیلنسنگ سے فیوچرز مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ آ سکتا ہے، جس سے قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے سے مرکزی بینکوں کے ذخائر کی قدر بھی بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری سطح پر خریداری میں کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے، تاہم طویل المدت تناظر میں مہنگائی، شرحِ سود میں ممکنہ کمی اور سست روی جیسے عوامل سونے کو مزید نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button