متحدہ عرب امارات

یو اے ای: مستقبل کے اسپتالوں میں روبوٹ سرجنز اور اے آئی کیمرے ہوں گے، ماہر

خلیج اردو
ابوظہبی: مستقبل کے اسپتال کس طرح نظر آئیں گے؟ کلیولینڈ کلینک ابوظہبی کے سی ای او پروفیسر جارج پاسکل ہیبر کے مطابق یہ وہ جگہ ہوگی جہاں ’’روبوٹک کمانڈ سینٹر‘‘ ہوگا اور چند سرجن بیک وقت کئی آپریٹنگ رومز میں روبوٹس کے ذریعے آپریشن کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’نرسز مریضوں کی نگرانی نہ صرف اسپتال بلکہ ان کے گھروں، گاڑیوں اور پہننے والے آلات کے ذریعے بھی کر سکیں گی۔‘‘ یہ ویژن انہوں نے دبئی میں منعقد تین روزہ کانفرنس WHX ٹیک کے دوران پینل ڈسکشن میں پیش کیا، جہاں ماہرین نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ورچوئل ریئلٹی، سائبر سیکیورٹی اور بگ ڈیٹا کس طرح صحت کی سہولیات کو بدل رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کا کردار
ایمازون ویب سروسز کی ہیلتھ انوویشن کی سربراہ ڈاکٹر میریئم فرنانڈیز نے بتایا کہ اے آئی ڈاکٹروں پر غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کر رہی ہے، جس سے ان میں برن آؤٹ کی شرح گھٹ رہی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ اے آئی کی بدولت مریضوں کی اپوائنٹمنٹس میں 30 فیصد کمی آئی ہے اور مریض بروقت درست ماہر کے پاس پہنچ رہے ہیں۔

پروفیسر ہیبر نے بتایا کہ ابوظہبی میں ان کی سہولت میں اے آئی کے الگورتھم سیپسس جیسے جان لیوا انفیکشن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ’’یہ نظام مریض کا ریکارڈ مسلسل جانچتا ہے تاکہ کسی بھی وقت سیپسس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری علاج کیا جا سکے۔ اسی وجہ سے موت کے خدشات میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔‘‘

اسپتالوں میں روبوٹ کا استعمال
سیئول کے سام سنگ میڈیکل سینٹر کی چیف میڈیکل انفارمیشن آفیسر ڈاکٹر میونگ ہی سون نے بتایا کہ انہوں نے پانچ سال قبل روبوٹس کے ذریعے رات کے وقت میڈیکل سپلائیز پہنچانے کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق اصل کامیابی اس وقت ملی جب روبوٹکس کو ’’سمارٹ کیبنٹس‘‘ اور پیشگی سپلائی مینجمنٹ کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس سے نرسز کو اسٹاک چیک کرنے اور دستی آرڈر دینے کی جھنجھٹ سے نجات ملی اور لاجسٹکس مزید مؤثر ہو گیا۔

چہرہ شناسی ٹیکنالوجی
ایونٹ کے موقع پر سنگاپور حکومت کے ہیلتھ کیئر کے اے آئی ایڈوائزر ڈاکٹر ہاروی کاسترو نے بتایا کہ مستقبل کے اسپتالوں میں ایمرجنسی رومز میں فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال ہوگی۔ ’’کیمرا مریض کی حالت دیکھ کر دل کی دھڑکن اور دیگر پیمائش کرے گا اور ڈاکٹر کو الرٹ کرے گا کہ کس مریض کو فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی ڈاکٹر مریض سے علامات پوچھتا ہے، نوٹس خودکار طور پر ٹرانسکرائب ہو جائیں گے اور فارماسسٹ کو مطلوبہ دوا کی اطلاع مل کر وہ فوری بھیجی جائے گی۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کے یہ خودکار اسپتال صحت کے نظام کو زیادہ تیز، محفوظ اور مریض دوست بنا دیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button